نفسیاتی مسائل کے حل کے لئے متعلقہ مضامین کے ماہرین مل کر تحقیق کریں، ڈاکٹر نظام الدین


لاہور (21 مارچ ،جمعرات):سابق چئیرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین نے کہا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں بین المضامین ہم آہنگی کا فقدان ہے معاشرے میں موجود نفسیاتی مسائل کے حل کے لئے انٹر ڈسپلنزی اپروچ اپنانی ہو گی۔ وہ پنجاب یونیورسٹی سنٹر فار کلینکل سائیکالوجی کے زیر اہتمام کلینکل سائیکالوجی میں جدید جحانات پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس میں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر نیاز احمد، ڈائریکٹر سنٹر فار کلینکل سائیکالوجی ڈاکٹر صائمہ داود، دنیا کے مختلف ممالک اور ملک بھر سے سائنسدان اور محققین اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نظام الدین نے کہا کہ کوئی بھی ڈسپلن تنہائی میں کام نہیں کر سکتا لہذا ہمیں اپنے اکیڈیمک کلچر میں اجتماعی کاوشوں کو فروغ دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اپنا تحقیقی ایجنڈا سیٹ نہیں کریں گے ہمارے سماجی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نفسیات دانوں کی مدد سے معاشرے کے جرائم پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر نیاز احمد نے کہا کہ ہماری معاشرے میں لوگ اپنے نفسیاتی مسائل سے بھی آگاہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایجوکیشن سائیکالوجی، انڈسٹریل سائیکالوجی، سپورٹس سائیکالوجی وغیرہ میں مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور ہمارے ماہرین کو ان مسائل کو حل کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ ایسے تحقیقاتی منصوبوں کی فنڈنگ کرے گی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر صائمہ داود نے کہا کہ کانفرس سے پہلے 10 اور کانفرنس کے بعد 4 ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد ماہرِ نفسیات اور طلبہ اور طالبات کو ذہنی بیماریوں کے علاج کے لیے پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں پورے پاکستان سے مایہ ناز ماہرِ نفسیات اور طلبہ و طالبات شرکت کر رہے ہیں ۔ کانفرس میں 18 سائنٹیفک سیشنز کا انعقاد کیا گیاہے۔ جس میں پورے پاکستان سے 135 ریسرچ مقالے پیش کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا مقصدعوام اور نفسیات کے طلبہ و طالبات میں نفسیاتی مسائل اور اُن کے بارے میں آگاہی پیدا کرنااور نفسیاتی مسائل سے نمٹنے کے لئے کوئی لائحہ عمل مرتب کرنا ہے۔