بہاولپورمیں ٹیچرکاقتل: تصویر کا دوسرا رخ

تحریر: ڈاکٹراے آرساجد

بہاولپورکے ایس ای کالج کے بی ایس انگلش پانچویں سمسٹر کے ایک طالب علم نے اپنے استاد کو چھریوں کے وار کر کے قتل کردیا جس پر تمام اہل وطن بالخصوص ٹیچر کمیونٹی انتہائی سوگوار ہیں۔ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ طالبعلم ایک مذہبی تنظیم سے لگاؤ رکھتا تھا اور گزشتہ تین چار ماہ سے کافی زیادہ اسلامی ہوا ہوا تھا ۔مذکورہ طالبعلم کا یہ عمل شدت پسندی گردانہ گیا ہے اور اس کے تدارک کے لئے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔اسکا یہ عمل واقعی بہت سفاکانہ اور انتہائی شدت پسندی ہے جس کی اسلام میں قطعی کوئی گنجائش نہیں۔اسلام تو اپنے ماننے والوں کو یہاں تک کہتا ہے کہ جس نے ایک جان کو قتل کیا اس نے گویا ساری انسانیت کو قتل کیا اور جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے سارے انسانوں کی جان بچائی۔اس واقعے کی سختی سے مذمت کی جانی چاہیے اور ایسے واقعات کے تدارک کے لئے ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی استاد یا معاشرے کا کوئی بھی فرد شدت پسندی کا شکار نہ ہو سکے۔

 ایسے واقعات کے تدارک کے لئے تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم تعلیمی اداروں میں ایسا ماحول پیدا کر سکیں کے تاکہ آئندہ کسی کوبھی ایسے کسی عمل  کاجوازنہ مل سکے۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی درجنوں ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں ولی خان یونیورسٹی خیبرپختونخوا میں مشال قتل کیس، حجرہ کے نواح میں ایسے بچے کا کیس جس نے اپنا بازو اس لیےکاٹ دیا تھا کہ اس کو بتایا گیا تھا کہ اس کابازوتوہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے، بہائوالدین زکریا یونیورسٹی کے لیکچرار جنید حفیظ پر دفعہ 295سی کے تحت مقدمہ زیر سماعت ہے۔ وہ ڈسٹرکٹ جیل ساہیوال میں قید ہے ، غرض اور بھی اس طرح کےمتعدد واقعات رونماہو چکے ہیں لیکن بدقسمتی سےایسےواقعات کے سدباب کے لیے کوئی ٹھوس پالیسی وضع نہیں کی جاسکی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تعلیمی ادارے کردار سازی میں کیوں ناکام ہوچکے ہیں؟تعلیمی اداروں کا مقصد کیوں فوت ہوچکا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ایک بچہ جو پچھلے14 سال سے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہے ( 10 سال سکول اور 4 سال کالج) لیکن اس کی شخصیت پر ان 14 سالوں کی کوئی چھاپ نظر نہیں آئی بلکہ اس نے 2 سے 3 مہینے کی جزوقتی تقریریں اور بیانات(جن کاابھی صرف شبہ ہے) کا اتنااثر لے لیاکہ وہ اپنے روحانی باپ کی جان تک لے گیا۔یہ وہ سوال ہیں جن پر کسی کی توجہ نہیں۔ اگر ان سوالات پر توجہ نہیں کریں گے تو پھر حالات کبھی تبدیل نہیں ہوں گے۔کچھ وقت گزرنے کے بعد پھر کسی نہ کسی تعلیمی ادارے میں یا معاشرے میں شدت پسندی کانیا واقعہ رونما ہو جائے گا،چار دن میڈیا میں اس کی مذمت ہو گی،سوشل میڈیاپر اس کوموضوع بحث بنایاجائے گا اور پھر ہم سب شترمرغ کی طرح ریت میں گردن دبا کر ایک نئے واقعے کے انتظار میں بیٹھ جائیں گے۔ آخر کب تک، کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟ کب ہم حقیقت پسند ہوں گے؟کب ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں گے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ضروری اقدامات کریں گے؟کیا تعلیمی اداروں کاصرف یہ کام ہے کہ طلباء وہاں داخل ہوں،ان کی حاضری ہو ان کو چند اسباق رٹائے جائیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد ان میں سے ان کا ٹیسٹ لے لیا جائے، جس کا حافظہ تیز ہووہ زیادہ نمبراورپوزیشن لے لےاورجوسوالات کے جوابات یاد نہ رکھ پائے وہ کم نمبرلے یافیل ہوجائے۔بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے علم و دانش کی بجائے رقص گاہوں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں اور اساتذہ ان کا کردار صرف اس حد تک محدود ہوتا جارہاہے کہ اسکول میں وقت گزارنا ہے اوربچوں کوطوطے کی طرح رٹناسکھاناہے،بچوں کی تربیت جو تعلیم کا اصل مقصد ہے وہ کسی کی بھی ترجیح نہیں ہے (الاماشاءاللہ). جب ایسے حالات ہوں گے توطلباء کیسےمعاشرے کا کارآمدانسان بن سکیں گے؟مزیدبرآں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مختلف ثقافتی پروگرامز،الوداعی اور ویلکم پارٹیاں، کلچرل شوز اور ان کے اندر انڈین اور انگریزی گانوں اور فلموں کی تشہیر اور ناچ گانا معمول بن چکا ہے۔اساتذہ سے لے کر تعلیمی اداروں کے سربراہوں تک کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ کیا تعلیمی ادارے ان کاموں کے لیے بنے ہیں؟کیا اساتذہ کا یہ کام ہے کہ وہ بچوں کو یہ بتائیں کیسے رقص کرنا ہے، کیسے ڈانس کرنا ہے؟اسی طرح مخلوط نظام تعلیم نے تعلیمی اداروں کا بیڑہ ہی غرق کر دیا ہے لیکن اساتذہ سے لیکر حکومت تک سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔تعلیمی ادارے دو مختلف اورمتضاد سوچوں والے افراد کے درمیان بٹے ہوئے ہیں،ایک سوچ ایسے لوگوں کی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم کابنیادی مقصد تربیت ہے اور اساتذہ کا کردار والدین جیساہوناچاہیے، جبکہ دوسرے یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیمی ادارے صرف ڈگریاں دینے والے ادارے ہیں۔اکثرطلباء کو صرف ڈگری سے سروکار ہے جو آخر میں انھیں مل ہی جانی ہےاوروہ چاہتے ہیں کہ دوران تعلیم ان کو ہلہ گلہ،ناچ گانا اور انجوائمنٹ کے بھرپورمواقع ملنے چاہیں۔کیا حکومت نے کبھی غور کیا ہےکہ تعلیمی اداروں میں ہونے والے ان فنکشنز کے اندر کیا کچھ ہوتا ہے؟کیا سارے طلباء اور اساتذہ  ایسے اخلاق باختہ فنکشنزکوپسندکرتے ہیں؟مخلوط تعلیم کی وجہ سے لڑکے اور لڑکیاں زیادہ تر وقت ایک دوسرے کو اپنی طرف راغب اور مائل کرنے میں گزارتے ہیں, نت نئے فیشن اور غلط حرکات تعلیمی اداروں کے اندر معمول کی بات ہے،آئے روز لڑائی جھگڑے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانا عام ہو چکا ہے،حتیٰ کہ استاد اور شاگرد کا مقدس رشتہ بھی ایسے مقابلوں کی نذر ہوچکا ہے۔یونیورسٹیز میں ایک یونیفارم نہ ہونے کی وجہ سے لڑکے اور لڑکیاں نت نئے فیشن زدہ کپڑے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ غیر مہذب اور کم ترہوتے جا رہے ہیں پہنتے نظر آتے ہیں۔یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کا کلاسوں میں بن ٹھن کر آنا اور لڑکوں کے ساتھ ہلہ گلہ ایک معمول کی بات ہے(حال ہی میں سب سے قدیم ملکی درس گاہ جامعہ پنجاب لاہور کے اندرلڑکیوں کے ہاسٹل سے متصل بیوٹی پارلر کاقیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے)۔

کیا تعلیمی ادارے ان مقاصد کے لئے ہیں کہ یہاں غیر اخلاقی، غیرشرعی اورنیم عریاں لباس کی نمائش کی جائے اور مختلف قسم کے فنکشنز میں انتہائی بے ہودہ اور غیر اخلاقی کاموں کی ترویج کی جائے؟کیا کبھی کسی نے سوچا کہ اعتدال پسند طبقے اور اساتذہ کے لیے ایسے کام بھی شدت پسندی ہے؟ ایسے کام نہ صرف ہماری مجموعی معاشرتی اور مذہبی اقدار کے خلاف ہیں بلکہ طلبہ کے اندر ہیجان انگیزی اور اشتعال بھی پیدا کرتے ہیں۔آج کل یونیورسٹیوں میں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ طلبہ اور طالبات کامحض ایک ہی مقصد ہے کہ کیسے مخالف جنس کو نیچا دکھانا اور اپنی طرف مائل کرنا ہے۔اس قسم کے حالات میں اساتذہ،جنکا درجہ اسلام نے ایک ماں باپ کا سا رکھا ہے صرف خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بلکہ کچھ ایسے اساتذہ بھی ہیں جو خود ایسے گھٹیا کاموں میں ملوث پائے گئے ہیں جس کی وجہ سےہرگزرتے دن کےساتھ اس مقدس رشتے کا احترام ختم ہوتا جا رہا ہے۔اساتذہ کی طرف سے مخالف جنس کےشاگردوں کے ساتھ غیر اخلاقی اور غیر شرعی تعلق کی شکایات بھی سننے میں آتی رہتی ہیں۔جانے کتنی ہی لڑکیاں اپنے اساتذہ کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہو چکی ہیں لیکن بیچاری اپنی عزت کے ڈر سے خاموش ہوجاتی ہیں۔یقینناایسے اساتذہ معاشرے کا ناسور ہیں۔آج ہمارے تعلیمی اداروں میں میوزیکل کنسرٹ، ڈانس پارٹیز و مقابلہ جات، فیشن شوز، کیٹ واک، فن فیئرز، ویلکم پارٹیاں، فئیرویل فنکشن، سالانہ تقریبات اور اسی طرز کے دیگر پروگرامز کے ذریعے ہماری تہذیبی،معاشرتی، مذہبی اور اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں لیکن ہم اجتماعی بے حسی کاشکارہیں۔

اگر استاد کا مقام انتہائی گراوٹ کا شکار ہے تو اس کی سب سے بنیادی وجہ اس کا اپنا کردار ہے، اکثر اساتذہ کو بچوں کی تربیت یا ان کی بہتری مقصود نہیں بلکہ وہ اپنی روٹی روزی کو ترجیح بنائے ہوئے ہیں۔سمیسٹر سسٹم نے اساتذہ کو انتہائی طاقتور بنا دیا ہے جس کی وجہ سےاکثر اساتذہ اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ یونیورسٹیز میں ایک مضمون کے مجموعی نمبرزبشمول مڈٹرم اورفائنل پیپرز بنانےاورچیک کرنے،اسائنمنٹس،پریزنٹیشن کے نمبر ایک استاد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور ان کی طرف سے اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کی مثالیں عام ہیں۔اکثراساتذہ اپنے اس لامتناہی اختیار کو طلباء کے استحصال میں استعمال کرتے بھی پائے جاتے ہیں لیکن ان کی روک ٹوک کرنے کا کوئی نظام نہیں ہے۔الغرض تعلیمی اداروں میں ایسی دیگر بہت سی خرافات عام ہوچکی ہیں لیکن حکومت اور اصلاحی ادارے خواب خرگوش کامزہ لےرہے ہیں۔آخرکب تک ایسا ہوتا رہے گااور ہم سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے رہیں گے؟

اتنا زیادہ نقصان کروانے کے بعد اب ہمیں ہوش کے ناخن لے لینے چاہیں، اب ہمیں اصلاح کی طرف قدم بڑھانا چاہیے اب ہمیں تعلیمی اداروں کو صحیح معنوں میں علمی اور تربیتی اداروں میں بدلنا چاہیے اور انھیں رقص گاہیں نہیں بننے دینا چاہیے۔طلبہ اور اساتذہ کو ڈسپلن کا پابند بنانا چاہیے۔اس کے لیے چند ایک اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔ان میں سب سے پہلے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنی چاہیے۔سکول سے لے کر یونیورسٹی تک یونیفارم لازمی ہونا چاہیے اور باقاعدہ کوڈ آف کنڈکٹ لاگو ہونا چاہیے جو نہ صرف طلباء اساتذہ بلکہ تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے سارے ملازمین پر یکساں لاگو ہو۔تعلیمی اداروں میں تعلیم اور تربیت کے علاوہ کوئی منفی سرگرمی نہیں ہونی چاہیے۔طلباء کو تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں اور ہم نصابی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا چاہیے اور ہم نصابی سرگرمیوں اور کھیلوں کے باقاعدہ گریڈز اورنمبرزہوں اور حتمی نتائج میں ہم نصابی سرگرمیوں، کھیلوں اور اخلاقی اقدار کے نمبر بھی شامل ہوں تاکہ ان اداروں سے نکلنے والے طلباء معاشرے کے کارآمدشہری بن سکیں۔سمیسٹرسسٹم میں پائی جانے والی خرافات فوری طور پرختم کی جائیں اور اساتذہ کا کام تعلیم دینا اور کردار سازی ہو، پیپرز بنانے اور چیک کرنے کی ذمہ داری ان پر نہیں ہونی چاہیئے۔

اگرہم تعلیمی اداروں میں  اصلاحی اقدامات اٹھالیتے ہیں توہمیں دنیاکی کوئی طاقت ایک باوقارمقام حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔