تبدیلی کے نعرے ٹُھس: ایڈیشنل سیکرٹری صحت کے پی اے سےشناخت مانگنے پراے ایم ایس ڈینٹل ہسپتال او ایس ڈی بنادیئے گئے

لاہور(۴اپریل):بڑے میں توبڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ۔۔۔ویسے تویہ محاورہ ہے لیکن نئے پاکستان کے ٹھیکیداروں نے اس محاورے کوسچ ثابت کیاہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری صحت کے پرسنل اسسٹنٹ اویس ڈینٹل ہسپتال کے گارڈزکی طرف سے شناختی کارڈمانگنے کوبرداشت نہیں کرسکا اورعملے اورسینئرڈاکٹرزکے ساتھ بدتمیزی کی،موصوف کااس پربھی دل نہ بھراتواے ایم اس کوفوری طورپراوایس ڈی بھی بنوادیا۔ ہسپتال کے سینئرڈاکٹرکے ساتھ ایک جونیئرملازم کے انتہائی ہتک آمیزرویے اوراس کی ایماپرسینئرڈاکٹرکی بےتوقیری نے تبدیلی سرکارکے سرکاری اداروں میں بہتری کے دعووں کی قلعی کھول دی۔ہسپتال ملازمین بشمول ڈاکٹرزاورنرسنگ سٹاف سراپااحتجاج بن گئے۔
ہسپتال میں موجودذرائع کے مطابق ۲اپریل کوایڈیشنل سیکرٹری صحت کے پرسنل اسسٹنٹ مسٹراویس نے علاج کے سلسلے میں پنجاب ڈینٹل ہسپتال لاہورکاوزٹ کیا۔ہسپتال کے طریقہ کارکے مطابق گارڈزنے اس سے شناختی کارڈمانگا لیکن اس نےاپنی شناخت کروانے کی بجائے عملے کے ساتھ بدتمیزی شروع کردی کہ آپ مجھے جانتے نہیں کہ میں کون ہوں ،آپ کی جرآت کیسے ہوئی مجھ سے شناخت مانگنے کی۔گارڈزکی طرف سے یہ بھی کہاگیاکہ سرآپ کے ماتھے پرتونہیں لکھا کہ آپ کون ہیں ؟آپ جب تک اپنی شناخت ظاہرنہیں کریں گے تب تک کیسے پتا چلے گاکہ آپ کون ہیں؟ اوریہ قانون ہے کہ ہم ہسپتال آنے والے ہرشخص سے شناخت مانگتے ہیں کیونکہ یہ قانون ہے اورہم اس کے پابندہیں۔اس پرموصوف نے کہاکہ آپ کی ایسی تیسی آپ کوپتانہیں میں ہی قانون ہوں۔سیکورٹی گارڈزنے معززمہمان کواے ایم ایس ڈاکٹرمحمدشفیق کے پاس لے گئے جنہوں نے موصوف کوسمجھانے کی کوشش کی کہ عملہ حکومتی اورہسپتال انتظامیہ کی ہدایات کاپابندہے ،آپ اپنی شناخت کروائیں اورتسلی سے اپناعلاج کروائیں،لیکن موصوف کاپارہ آسمان کوچھوتارہااوراس نے ہسپتال کے انتہائی سینئرڈاکٹرشفقیق جوکہ گریڈ۲۰کےڈاکٹرہیں اوراگلے دوتین ماہ میں ریٹائرڈہونے والے ہیں کی نہ صرف بے عزتی کی بلکہ انہیں دھمکیاں بھی دیں۔اس پرڈاکٹرشفیق نے اسےکہاکہ اس کی مرضی جوکرے۔ بس پِھر کیا تھا بیوروکریسی کے مُنہ زور گھوڑے کی انا کو ٹھیس پہنچ گئی اور اُس انا کی تسکین کے لیے ڈاکٹر شفیق کو اُنکے عُہدے سے ہٹا دیا گیا۔

ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن ڈینٹل ہسپتال کے صدرنے اس موقع پربتایاکہ اِس ظُلم کے خِلاف مورخہ تِین مارچ دو ہزار اُنّیس کو ان کی زیرصدارت سینئیر ڈاکٹرز ، فیکلٹی ممبرز اور ینگ ڈاکٹرز کا اِجلاس ہوُا جس میں مُتفقہ طور پہ تبدیلی سرکار کے اِس اقدام کو مُسترد کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ڈاکٹر شفیق کے ساتھ اِظہارِیکجہتی کے لیے کل سے تمام ڈاکٹرز کالے رِبن باندھیں گے ۔ اور اگر ضرورت پڑی تو اِس احتجاج کی شِدت اور دائرہِ کار میں اِضافہ کیا جائے گا ۔
چاراپریل کو ہسپتال عملہ،ڈاکٹرزاورگارڈزنے ہسپتال کے سینئرڈاکٹرکے ساتھ پنجاب حکومت کے معمولی ملازم کے نارواسلوک پرسخت احتجاج کیا۔تمام سٹاف نے ڈاکٹرشفیق کے ساتھ اظہاریکجہتی کے طورپرسیاہ پٹیاں باندھ کرکام کیا ۔ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹرعثمان شکورنے نوائے مکتب کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہسپتال انتہائی سیکورٹی والے علاقےمیں شامل ہیں اورحالیہ کچھ عرصے میں متعددسیکورٹی خطرات سے آگاہ کیاگیاہے۔ہسپتال میں عملے اورمریضوں کی تعدادتقریبا ۲ہزارہے اوراتنے زیادہ لوگوں کی زندگیاں داو پرنہیں لگائی جاسکتیں۔سیکورٹی عملے کوشناخت کروانا ہرآنے والے فرد کی ذمہ داری ہے جس سے کسی کواستثناءحاصل نہیں۔
ڈاکٹرزنے حکومت پاکستان اور وزیراعظم مطالبہ ہے کہ سینئرڈاکٹرکے ساتھ زیادتی کرنے والے ملازم کوقرارواقعی سزادی جائے اوراس کاتبادلہ لاہورسے باہرکیاجائے تاکہ آئندہ کوئی بھی قانون کے ساتھ مذاق کرنے کی جراٗت نہ کرے۔