امن اور رواداری سمیت سماجی اہم اہنگی کو ایک بڑی تحریک کی شکل دینی ہوگی: ڈاکٹرنظام الدین

تعلیمی اداروں میں انتہا پسندی کے مقابلے میں تعلیم اور تربیت کے عمل کو زیادہ فروغ دینا ہوگا:ڈاکٹرنیازاحمداختر
اس وقت ملک کو امن اور رواداری پر مبنی کلچر کی ضرورت ہے: صوبائی وزیر اطلاعات سید صمصام علی

شاہ بخاری
معاشرے میں ایک بڑے مکالمہ کی ضرورت ہے :ڈاکٹرروف اعظم
تعلیمی اداروں میں امن اور رواداری پر مکالمہ کا آغاز او راس میں طلبہ کی مختلف سوسائٹیوں کا اہم کردار ہے :ڈاکٹرساجدرشید
حکومت کو چاہیے کہ وہ نئی نسل سے جڑے ہوئے سیاسی , سماجی اور معاشی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر اپنا ایجنڈا بنائے : سلمان غنی

لاہور(۲۰مئی) یونیورسٹی آف پنجاب, یونیورسٹی آف ایجوکیشن اور ادارہ برائے جمہوری تعلیم اینڈ ایڈوکیسی )آیڈیا(کے باہمی اشترا ک سے طلبہ و طالبات میں ’ امن , رواداری او رسماجی اہم اہنگی ‘‘ پر مبنی پینل ڈسکشن سیریز کی یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں ہونے والی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےپنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات سید صمصام علی شاہ بخاری نے کہا کہ اس وقت ملک کو امن اور رواداری پر مبنی کلچر کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے مسائل کوطاقت کی بجائے مکالمہ او ربات چیت کی مدد سے حل کریں ۔نوجوان اہم طاقت ہیں او راگر وہ امن او ررواداری کو قائم کرنے کی تحریک کا حصہ بن جائیں اور یہ تحریک تعلیمی اداروں سے آگے بڑھے تو یہ ملک امن اور رواداری کاگہوار ہ بن سکتا ہے ۔پاکستان نے انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جو بڑے اقدامات کیے ہیں اس کے بہتر نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مل کر پاکستان کو پرامن او رمحفوظ ملک بنانے کےایجنڈے کا حصہ بنیں اور یہ اسی صورت میںممکن ہوگا جب ہم دوسروں کے ساتھ اختلافات کو دشمنی میں نہ بدلیں بلکہ مسائل کا سیاسی اورسماجی حل تلاش کریں ۔
ڈاکٹر نظام الدین نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہمیں امن اور رواداری سمیت سماجی اہم اہنگی کو ایک بڑی تحریک کی شکل دینی ہوگی او راس میں استادسمیت طالب علم مل کر ایک کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ہمیں تعلیمی نصاب میںبنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لانی ہیں کیونکہ اگر ہم نے اپنے تعلیمی نظام کی مدد سے انتہا پسندی کا مقابلہ کیا تو اس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے ۔تعلیمی اداروں کے سربراہان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اداروں میں ایک ایسا سازگار ماحول پیدا کریں جو سب میں سماجی اہم اہنگی کے ایجنڈے کو تقویت دے ۔

پنجاب یونیورسٹی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اخترنے کہا کہ ہم نے اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں انتہا پسندی کے مقابلے میں تعلیم اور تربیت کے عمل کو زیادہ فروغ دینا ہوگا۔ تعلیمی تحقیق کی مدد سے ہمیں ایسے معاشرتی مسائل کا احاطہ کرنا ہوگا کہ کیونکر معاشرے میں عدم برداشت کاکلچر بڑھ رہا ہے ۔ ہمیں نوجوانوں کی بڑی راہنمائی کرنا ہوگی اور ان کو قائل کرنا ہوگا کہ وہ طاقت کی بجائے اپنے مسائل کو بات چیت سے حل کریں ۔پروفیسر ڈاکٹر روف اے اعظم نے کہا کہ تعلیمی اداروں کا کام معاشرے میں ایک متبادل بیانیہ پیش کرناہوتا ہے او راس وقت جو مسائل ہمیں درپیش ہیں اس کے لیے معاشرے میں ایک بڑے مکالمہ کی ضرورت ہے ۔ یہ مکالمہ محض تعلیمی اداروں تک ہی محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ سب فریقین کو اس میںاپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔نوجوانوں کی درست راہنمائی او ران کے بنیادی مسائل کو حل کرکے ہی ہم ان میں امن کی بحث کو آگے بڑھاسکتے ہیں ۔

پروفیسر ڈاکٹر ساجد رشید نے کہا کہ ہم نے تعلیمی اداروں میں امن اور رواداری پر مکالمہ کا آغاز کرکے ایک اچھی بنیاد رکھ دی ہے او راس میں طلبہ کی مختلف سوسائٹیوں کا اہم کردار ہے ۔اگر واقعی ہم نے ملک میں امن کو پیدا کرنا ہے تو اس میں ہمیں تعلیمی اداروں کی سطح پر ایک موثر کام اور حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی ۔ ہم نے ماضی میں نئی نسل کے مسائل پرکوئی زیادہ توجہ نہیں دی او راس کی نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے نوجوان  مثبت سرگرمیوں کی بجائے ایسی سرگرمیوں کا حصہ بنے جو معاشرے میں عدم رواداری کے کلچر کو فروغ دینے کا سبب بنا ۔ یہ ضروری ہے کہ نئی نسل کو امن کا پیامبر بنا کر پیش کیا جائے او ران کو سمجھنا ہوگا کہ دوسروں کے خیالات کو عزت و احترام دے کر ہی ہم ایک ایسا مہذہب معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جو قومی ضرورت ہے ۔ سلمان عابدنے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کو شامل کیے بغیر کوئی بھی ملک یا معاشرہ اپنے لیے امن اور ترقی کے ایجنڈے کو مضبوط نہیں بناسکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم نئی نسل کو بنیاد بنا کر اپنا قومی ایجنڈا ترتیب دیں اور اس میں نئی نسل کو زیادہ سے زیادہ مواقع دیں اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں تو نوجوان ترقی کے قومی عمل میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ معروف صحافی سلما ن غنی کا کہنا تھا کہ نئی نسل میں جو شدت پسندی بڑھ رہی ہے اس کی وجہ نئی نسل کے مسائل ہیں ۔ ہماری ریاست اور حکومت کو چاہیے کہ وہ نئی نسل سے جڑے ہوئے سیاسی , سماجی اور معاشی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر اپنا ایجنڈا بنائے۔ نئی نسل میں اس سوچ کو اجاگر کرنا ہوگا کہ ہمیں اپنے مسائل طاقت کی بجائے مکالمہ یا بات چیت کی مدد سے حل کرنے ہونگے او رہر اس اقدام کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی جو معاشرے میں ایک دوسرے کے بارےمیں عدم برداشت کا