ورچوئل یونیورسٹی ایم اے جناح کیمپس میں جاری دو روزہ ریسرچ کانفرنس اختتام پذیر….

دو روز سے جاری کانفرنس سے 9 مختلف جامعات کے سابقہ اور موجود ہ وائس چانسلرز نے خطاب کیا۔کانفرنس کا مقصد پاکستان میں ریسرچ کے میدان میں پیش آنے والے مسائل کا تدارک تھا۔
کانفرنس کے مقررین میں میاں عمران مسعود سابقہ وزیر تعلیم،وائس چانسلریونیورسٹی آف ساوتھ ایشیا، ڈاکٹر زکریا زاکروائس چانسلر یونیورسٹی آف اوکاڈہ، سابقہ وائس چانسلر یونیورسٹی آف دی پنجاب، ڈاکٹر ناصر محمودسابقہ وائس چانسلرعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، ڈاکٹر شہباز عارف سابقہ وائس چانسلر جی سی یونیورسٹی فیصل آباد، ڈاکٹر رخسانہ کوثر سابقہ وائس چانسلرلاہور کالج فار وومین یونیورسٹی، ڈاکٹرشاہدہ حسن سابقہ وائس چانسلریونیورسٹی آف ملتان، ڈاکٹر منور مرزا سلطانہ سابقہ وائس چانسلریونیورسٹی آف ایجوکیشن، ڈاکٹر نجمہ نجم سابقہ وائس چانسلر فاطمہ جناح وومین یونیورسٹی، ڈاکٹر روبینہ زاکر ڈائیریکٹر پنجاب یونیورسٹی اور ڈاکٹر نبی بخش ڈین سوشل سائینس انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی، ڈاکٹر مسرور الہی ڈین فیکلٹی آف سائینس و ٹیکنالوجی ورچوئل یونیورسٹی، ڈاکٹر محسن جاو ید رجسٹرار ورچوئل یونیورسٹی اور کانفرنس سیکرٹری ڈاکٹر صدف جبین شامل تھے۔ اس کے علاوہ پی ایچ ڈی طالبعلموں کی ایک کثیر تعداد نے کانفرنس میں شرکت کی۔ ریکٹر ورچوئل یونیورسٹی نعیم طارق نے کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیااور کانفرنس کے انعقاد پہ منتظمین کو مبارکباد دی اور شرکا کو خوش آمدید کہا۔انہوں نے ریسرچ کی اہمیت کو اجا گر کرنے کے لیئے ایسی مزید نشستوں کے قیام پہ زور دیا۔کانفرنس کے مقررین نے پاکستان میں ریسرچ کے میدان میں بہتری لانے پہ زور دیا۔اس سلسلے میں تمام مقررین نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مل کے ریسرچ کے میدان میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کرنے کا عظم ظاہر کیا۔ ڈاکٹر منور مرزا سلطانہ نے شرکا سے خطاب میں کہا کہ جامعات کی بین الا قوامی درجہ بندی میں ریسرچ کا ایک بڑا اہم کردار ہے، جب تک ہماری ترجیہات میں میعاری ریسرچ شامل نہیں ہوگی ہم بین الا قوامی جامعات کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس سلسلے میں جامعات کے ریسرچ سپر وائزرز پہ ایک بڑی زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے طالبعلموں کی میعاری ریسرچ کے لیئے ہرممکن اقدام کریں۔ کانفرنس کے اختتام پہ ریکٹر ورچوئل یو نیورسٹی نعیم طارق نے شرکا میں اسناد تقسیم کیں۔