پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کیلئے طلبہ بھرپور کردار ادا کریں: بیگم پروین سرور

لاہور 25)جون،منگل): گورنر پنجاب کی اہلیہ بیگم پروین سرور نے کہا ہے کہ دنیا میں پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کیلئے طلباؤ طالبات کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کالج آف ارتھ اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز کے زیر اہتمام سنٹر فار ہیلتھ اینڈ جینڈر ایکوالٹی (چینج) کے اشتراک سے فیصل آڈیٹوریم میں منعقدہ سٹوڈنٹس سوسائیٹز کانفرنس 2019ء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں صوبائی وزیربرائے اعلیٰ تعلیم راجا یاسر ہمایوں، قائمقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد تقی زاہد بٹ، سابق چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹرمحمد نظام الدین، وائس چانسلر یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر عابد ایچ کے شیروانی، پروریکٹر منہاج یونیورسٹی شاہد سرویہ،رجسٹرار ڈاکٹر محمد خالد خان، تجزیہ کار سلیمان عابد،پرنسپل کالج آف ارتھ اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ساجد رشید احمد، فیکلٹی ممبران اور مختلف یونیورسٹیوں کے طلباؤ طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں بیگم پروین سرور نے کہا کہ ہمیں بیٹے اور بیٹی میں کوئی فرق نہیں سمجھنا چاہیے اور ملک کو ترقی دینے کیلئے خواتین کو مضبوط کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ہسپتالوں میں 50فیصد مریض گندے پانی کے استعمال کی بدولت زیر علاج ہیں جبکہ 25فیصد ہیپاٹائیٹس کا شکار ہیں جن سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیرکیلئے زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے جس کو بہتر کرنے کیلئے سب کو انفرادی سطح پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں پرسکون تعلیمی ماحول کا تمام کریڈیٹ موجودہ وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے۔ صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم راجا یاسر ہمایوں نے کہا کہ ماضی میں طلباؤطالبات کو سیاسی جماعتیں اپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں لیکن سٹوڈنٹ سوسائٹیز کے قیام سے طلباؤطالبات کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتی ویژن کے مطابق تعلیمی اداروں سے لڑائی جھگڑوں کے خاتمے کیلئے یونیورسٹیوں کو برداشت اور رواداری کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے امن کے قیام میں پنجاب یونیورسٹی کے کردار کی تعریف کی۔قائمقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد تقی زاہد بٹ نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات میں پاکستان بھر سے مختلف کلچرسے تعلق رکھنے والے تقریباً43ہزار طلباؤ طالبات کا ایک ساتھ تعلیم حاصل کرنا اس کے پر امن ترین جگہ ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹوڈنٹ سوسائٹیز کے قیام سے طلباؤطالبات کو اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے بھرپور مواقع ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے محدودبجٹ کے باوجود طلبہ بہترین کارکردگی کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اداروں میں میرٹ پر کام کرنے سے ہی امن اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔ سابق چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹرمحمد نظام الدین نے کہا کہ تھیٹر، ڈرامے اور ہم نصابی سرگرمیوں کے انعقاد سے طلباؤ طالبات میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ سوسائٹی کیلئے الگ عمارت ہونی چاہیے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کی رینکنگ میں بہتری پر وائس چانسلر کو مبارک باد پیش کی۔ڈاکٹر عابد ایچ کے شیروانی نے کہا کہ آج پاکستان میں تبدیلی کیلئے نوجوانوں کو ایسا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے جیسا جدوجہد آزادی کے وقت نوجوانوں کا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہر تحریک میں پنجاب یونیورسٹی کا کردار نمایاں رہا ہے کیونکہ یہاں ہر طرح کے لوگ علم حاصل کرنے آتے ہیں۔ شاہد سرویہ نے کہا کہ یونیورسٹی صرف ڈگری کے حصول کے نہیں ہوتی بلکہ سیکھنے کی بہترین جگہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متبادل بیانیے کا براہ راست تعلق مکالمے، سوچ بچار اور بحث مباحثے سے ہوتا ہے جس کیلئے طلبہ کو مواقع ملنے چاہیے تاکہ وہ ایک دوسری کی بات کو سنیں۔ سلیمان عابد نے کہا کہ لوگ نہ صرف مذہبی بلکہ سیاسی اور سماجی سطح پر بھی الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینج کا مقصد تعلیمی اداروں میں شاعری،ڈراموں، سپورٹس و دیگر مثبت سرگرمیوں کے ذریعے برداشت، رواداری، بھائی چارے اور ہم آہنگی کے کلچر کو پھیلانا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر ساجد رشید احمدنے کہا کہ گزشتہ تین برس سے امن کے قیام کیلئے پنجاب یونیورسٹی میں پروگرام کا انعقاد کیا جا تا رہا ہے اور گزشتہ برس 25شعبہ جات میں ہم نصابی سرگرمیاں منعقد کروائی گئیں جس کیلئے پنجاب یونیورسٹی وائس چانسلر اور انتظامیہ نے بھرپور تعاون کیا۔