ریاستِ مدینہ اورجنرل باجوہ کی توسیع: ڈاکٹراے آرساجد

کیاواقعی جنرل باجوہ ناگزیزہے؟
کیاموصوف کے چلے جانے سے ہم مشکلات کاشکارہوں گے؟
کیاان کے بعدآنے والے جنرلوں میں کوئی اس قابل نہیں کہ دنیاکی بہترین فوج کی سربراہی کرسکے؟
کیاتوسیع کی روایت ٹھیک ہےاوراخلاقی اورقانونی طورپرایساکرنادرست ہے؟
کیاان کی توسیع کے اعلان کایہ وقت مناسب تھا؟
کیااس فیصلے سے فوج کامورال بلندہوگا؟
اور
کیایہ روایت جاری رہ سکے گی؟

تم سے پہلے بھی یہاں اک تخت نشین تھا
اس کو بھی اپنے خداہونے کااتناہی یقین تھا

ڈاکٹراے آرساجد

پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران موجودہ حکومت کی طرف سے بارہاسننے کوملتارہاہےکہ وہ نیاپاکستان بنارہےہیں اورعمران خان توتواترسے اسے ریاست ِمدینہ سے تعبیرکرتے نظرآتے ہیں لیکن جب عمل کی باری آتی ہے توان کاعمل ریاست ِمدینہ جیسے اعمال سے کوسوں دوراوراکثراوقات تواس سے بالکل 180درجے الٹ ہوتاہے۔انہیں چاہیے کہ اگروہ واقعی پاکستان کوریاست ِمدینہ بنانے کے دعویدارہیں توریاستِ مدینہ کی تاریخ کابغورمطالعہ کریں تاکہ انہیں معلوم ہوسکے کہ مدینہ کی ریاست کن بنیادوں پرقائم تھی ۔

حال ہی میں ان کی جانب سے پاکستانی فوج کے سپہ سالارجنرل قمرجاویدباجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کردی گئی ہے۔دلچسپ امریہ ہے کہ مذکورہ جنرل کی ریٹارئرمنٹ میں ابھی تین ماہ کاعرصہ باقی تھا اوران کے پاس سوچنے اوراپنے فیصلے پرغوروغوض اورمشاورت کے لئے کافی عرصہ موجودتھالیکن ان کی طرف سے بڑی جلدی میں ایک بہت بڑافیصلہ کردیاگیاہےجس پروطن عزیزمیں کافی بحث ومباحثہ جاری ہے۔حکومتی حامی اسے بہت ہی اچھافیصلہ قراردیتے نظرآتے ہیں جبکہ بہت سے ذی شعورصحافی اورعوام الناس اس فیصلےکے خلاف ہیں۔حکومتی حامی اکثرسوشل میڈیااوردیگرپلیٹ فارمزپریہ کہتے نظرآتے ہیں کہ چونکہ ملک نازک حالات سے گزررہاہے ،انڈیاکے ساتھ کشمکش جاری ہے اس لیے سپہ سالارنہیں بدلناچاہیے بلکہ موجودہ کوہی برقراررکھناچاہیے۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیاواقعی جنرل باجوہ ناگزیزہے؟کیاموصوف کے چلے جانے سے ہم مشکل کاشکارہوں گے؟کیاان کے بعدآنے والے جنرلوں میں کوئی اس قابل نہیں کہ دنیاکی بہترین فوج کی سربراہی کرسکے؟کیاتوسیع کی روایت ٹھیک ہے؟کیاقانونی طورپرایساکرنادرست ہے؟کیایہ ان کی توسیع کے اعلان کایہ وقت مناسب ہے؟ کیااس فیصلے سے فوج کامورال بلندہوگا؟کیایہ روایت جاری رہ سکے گی؟

یہ چندسوال ہیں جن کاجواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔سب سے پہلے تویہ شک دورہوجاناچاہیے کہ کوئی بھی شخص ناگزیرنہیں ہے۔دنیاکانظام چلانے والی ہستی کے سامنے کسی بڑے سے بڑے کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ یہ نظام اسی طرح چلتارہے گا۔مدینہ کی ریاست میں تو جنگ کے عین دوران  سپہ سالارحضرت خالد بن ولید ؓکومعزول کردیاگیا اوران کی جگہ پر ابو عبیدہ ابن جراحؓ کو عہدہ سنبھالنے کا حکم دیا گیا ۔اگرچہ اس حکم سے ابو عبیدہ ؓ بہت رنجیدہ ہوئے مگرچونکہ امیر المومنین کے احکامات تھے اس لیے ان کے لئے تعمیل لازم تھی سووہ انہوں نے کی۔لیکن اس موقع پر حضرت خالد بن ولید ؓ نے جوکلمات کہے وہ سونے کے پانی سے لکھنے کے قابل ہیں۔انہوں نے فرمایاکہ  ”اگرمیں عمر ؓکے لئے لڑتا تھا تو اب نہیں لڑوں گا لیکن اگر اللہ کے لئے لڑتا تھا تو اسی طرح ایک سپاہی کی طرح لڑوں گا“۔ ان کی معزولی جس وجہ سے کی گئی وہ یہ کہی جاتی ہےکہ خالد بن ولید ؓ جس جنگ میں شریک ہوتے اس میں مسلمانوں کولازمی فتح نصیب ہوتی اوریہ سمجھاجانے لگاکہ فتح انہیں کی وجہ سے ہوتی ہے۔امیرالمومنین حضرت عمرؓنے اس موقع پریہ وضاحت پیش کی کہ انہوں نے اس وجہ سے خالدکوہٹایاہے کیونکہ اس  وجہ سے  لوگوں کا توکل کمزور ہو رہا تھاورنہ ان کے دل میں خالد ؓ کا وہی مقام ہے جو رسول اللہ ﷺ کے دل میں تھا۔

جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کرتے وقت سب سے بڑی یہ دلیل دی گئی کہ چونکہ حالات خراب ہیں ہیں اس لیے ایساکرنا ضروری ہے۔بلاشبہ جنرل باجوہ ایک پیشہ ور فوجی افسر ہیں اورعلاقے میں ان کی حکمت عملی کافی حدتک  کامیاب رہی ہے۔ جب سے وہ آرمی چیف بنے ہیں انھوں نے دہشتگردوں کوٹف ٹائم دیاہے اور اپریشن رد الفساد ان کی زیرقیادت کامیابی سے مکمل کیاگیا۔لیکن کیاان کے بعدآنے والے جنرلز میں کوئی اس قابل نہیں کہ ان کی کمی پوری کرسکے؟یقینابہت سے ہوں گےلیکن اب باجوہ صاحب کوتوسیع ملنے سے شایدہمیں ان کی سروسزمہیانہ ہوسکیں،بہت سے جنرلزترقی لیے بغیرریٹائرہوجائیں گے۔ایک لمحے کوسوچیں کہ اگرپچھلی حکومت میں جنرل راحیل شریف جوبھی بلاشبہ ایک انتہائی قابل اوربہادرسپہ سالارثابت ہوئے تھے کوتوسیع دے دیتی توکیاجنرل باجوہ سپہ سالاربن پاتے ،غالباًنہیں۔اسی طرح ان کی توسیع سے کئی قابل اوراہل افرادترقی کا حق کھو بیٹھیں گے اوران کی سروسزہمیں میسرنہیں آسکیں گی.ایک بہت بڑے فیصلے کے لئے درکارغوروغوض نہیں کیاگیابلکہ ضرورت سے زیادہ جلدی میں فیصلہ لے لیاگیاجس سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہوگیاہے اورآنے والے دنوں میں حکومت کواپنے فیصلے پرندامت کاسامناکرناپڑسکتاہے۔

اب بات آتی ہے کہ کیاموصوف کے چلے جانے سے ہم مشکل کاشکارہوں گے؟یقینانہیں کیونکہ پاک فوج ایک بہت بڑااورڈسپلنڈادارہ ہےجس میں ہرکوئی دوسرے سے بڑھ کرہے۔فوج میں افرادکی بجائے اجتماعی فیصلے مکمل غوروغوض کے بعدہوتے ہیں اورکسی کے جانے سے ادارے کی کارکردگی پرکوئی فرق نہیں پڑتا،یہ بات سب جانتے ہیں۔جنرل باجوہ کے چلے جانے سے ہم مشکل کاشکارنہیں ہوں گے بلکہ حقداران کوان کے جائزحق سے محروم کرنے سے مشکلات آسکتی ہیں۔اس توسیع سے یہ مطلب بھی لیاجاسکتاہے کہ ان کے بعدآنے والے جنرلوں میں کوئی اس قابل نہیں کہ دنیاکی بہترین فوج کی سربراہی کرسکے۔اس توسیع سے ایسی سوچ کوجوازفراہم کیاگیاہے جویقیناًادارے اورملک کے لئے اچھی بات نہیں۔

توسیع کی روایت کی بات کی جائے تو پاکستان کی عسکری تاریخ میں پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ کسی سپہ سالار کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ہو۔جنرل قمر جاوید باجوہ مدت ملازمت میں توسیع پانے والے پاکستانی فوج کے پانچویں سربراہ ہیں۔ جنرل ایوب خان ملک کے پہلے مقامی کمانڈر انچیف تھےجنہیں بوگرہ حکومت کے گھر جانے کے بعد 1955 میں بطور کمانڈر انچیف چار برس کی مزید توسیع مل گئی۔یعنی یہ پہلا موقع تھا کہ جب فوج کے سربراہ کی طرف سے مدت ملازمت میں توسیع کی ناپسندیدہ روایت فوج میں متعارف کروائی گئی۔بعدازاں دو فوجی آمر جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف بطور آرمی چیف اور سربراہِ مملکت خود کو توسیع دیتے رہے۔اس کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے کی اور اب جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان نے کی ہے۔توسیع پانے والے فوجی سربراہان کے بارے میں عمومی تاثرسے سب لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔اشفاق پرویزکیانی کے پہلے دورکاان کے توسیعی دورسے موازنہ کیاجائے توایک واضح فرق نظرآتاہے۔تین ماہ قبل فیصلہ کرنے کی روایت بھی پہلے سے قائم ہے جب 1990 ء سے 1993 ء تک کی مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور فوج کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں تھی۔ جنرل اسلم بیگ اور اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے درمیان دوسرے امور کے علاوہ خلیج کی جنگ میں فوج بھیجنے کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوئےجو بڑھتے چلے گئےاوریہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ جنرل بیگ ملک میں مارشل لاء لگانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے جنرل اسلم بیگ کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے تین ماہ قبل جنرل آصف نواز کو نیا آرمی چیف نامزد کر دیا تھا۔

اب بات کرتے ہیں کہ کیااخلاقی یا قانونی طورپرایساکرنادرست ہے؟یقیناًاخلاقی طورپرتویہ انتہائی ناپسندیدہ امرہےکہ آپ کسی حقدارکاحق چھین لیں۔آرمی چیف کی توسیع کامطلب ہے کہ کتنے سارے جنرلزترقی سے محروم ہوجائیں گے جوان کاقانونی حق ہے۔قانونی طورپر توسیع دی توجاسکتی ہے لیکن اس کوانتہائی ناپسندیدہ جاناگیاہے۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت عمران خان  بھی وزیراعظم بننے سے پہلے کئی بارکرچکے ہیں۔عمران خان نے اپنے انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کی تھی اورکہاتھاکہ جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم میں جنگ کے دوران بھی کبھی کسی آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع نہیں دی گئی۔اس وقت انہوں نے یہ بھی کہاکہ ادارے اپنے قوانین کے مطابق چلتے ہیں یعنی جب ان کے قوانین آپ توڑتے ہیں اور کسی شخص کے لیے قوانین تبدیل کرتے ہیں تو آپ اس ادارے کو تباہ کرتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہاتھاکہ اگر اس ملک کو ہم نے بچانا ہے توادارے مضبوط کرنا ہیں اورادارے تب مضبوط ہوتے ہیں جب وہ قانون پر چلتے ہیں،اپنے انٹرویو میں عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ مدت ملازمت میں توسیع اس لیے بھی نہیں ملنی چاہیے کہ آپ ادارے کو کمزور کریں گےاور جنرل مشرف نے فوج کو کتنا کمزور کیا ۔توکیا اب عمران خان اوران کے حامی بتاناپسندکریں گے کہ اس توسیع سے کیاادارہ کمزورنہیں ہوگا؟

ان کی توسیع کے اعلان کایہ وقت انتہائی نامناسب ہے کیونکہ ابھی ان کی ریٹائرمنٹ میں تین ماہ باقی ہیں اوراس وقت کیسے حالات ہوں گے وہ کسی کونہیں پتا۔بہترہوتاکہ اتنابڑافیصلہ کرتے وقت پہلے مناسب وقت لیاجاتا اورپھرمکمل غوروغوض کے بعدہی اس کااعلان کیاجاتا۔کیااس فیصلے سے فوج کامورال بلندہوگا، یقیناً نہیں بلکہ میرٹ کی پامالی پرافسران اورجوانوں میں میں بددلی پھیلے گی،فوج سے محبت کرنے والے ہم جیسے پاکستانی بھی میرٹ کے برخلاف اس فیصلے سے پریشان ہوئے ہیں توکیافوجی افسران اورجوان جنہوں نے اپنی زندگیاں اورجوانیاں اس ادارے کودی ہیں  وہ پریشان نہیں ہوئے ہوں گے۔

تاریخ کاسبق یہی ہے عزت اورعافیت بر وقت ریٹائرمنٹ میں ہی ہے۔ مدت ملازمت سے زیادہ ملازمت کرنا تحقیر کی وجہ بنتا ہے اور بالآخر بےتوقیری پر منتج ہوتا ہے۔ اس لیے سربراہان مملکت کوچاہیے کہ میرٹ کرفروغ دیں تاکہ حقداران کی حق تلفی نہ ہواوروطن عزیزتعمیروترقی کی شاہراہ پرگامزن ہوسکے۔حکمرانوں کوتاریخ سے سبق سیکھناچاہیےاورغیرمقبول فیصلوں سے گریزکرناچاہیے  اس میں ہی ان کی بھلائی ہے۔