مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کا کردار افسوسناک ہے، ڈاکٹر نیاز احمد

لاہور (12ستمبر،جمعرات):وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر نیاز احمد نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب مسئلہ کشمیر کے معاملے پر کردار افسوسناک ہے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جہاں دلچسپی ہوتی ہے، وہاں مسائل حل کر لیتی ہے۔ اگر اقوام متحدہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں کردار ادا نہیں کر سکتی تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی اور جموں کشمیر یکجہتی تحریک کے زیر اہتمام مسئلہ کشمیر پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سیمینار میں جنرل حمید گل کی صاحبزادی اور جموں کشمیر یکجہتی تحریک کی چیئرپرسن عظمی گل، جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفی، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر، ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر اقبال چاولہ، بشپ ابراہم ڈینئیل، سردار آکاش سنگھ، سینئر فیکلٹی ممبران اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا حق ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں چالیس روز سے کرفیو نافذ ہے اور اگر اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی نہیں روک سکتی تو اس ادارے کا اور کیا کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے اور پاکستانی قوم، حکومت اور فوج کشمیری عوام کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان میں بسنے والے ہندو، عیسائی، سکھ اور دیگر اقلیتیں بھی پاکستان اور کشمیریوں کے موقف کی حمایت کرتی ہیں اور بھارتی مظالم کی مذمت کرتی ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عظمی گل نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے متحد ہو کر جہاد کا اعلان کیا جانا چاہئے کیونکہ جذبہ جہاد ہمار سب سے بڑا ہتھیار ہے اور اقوام عالم ہمیں کشمیر طشتری میں نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کے حالیہ اقدامات بے وقوفی ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے میں ثالثی کے خوشنما جال سے بچنا چاہئے کیونکہ امریکہ اب اقوام متحدہ کے روپ میں کشمیر میں آ کر بیٹھنا چاہتا ہے اور ماضی میں ہم نے جیتی ہوئی بازیاں ثالثی کی میز پر ہاری ہیں۔  اپنے خطاب میں جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام پاکستان کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بات تب تک نہیں سنی جائے گی جب تک ہم جنگ لڑنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھانے کے لئے ممالک سنجیدہ کوششیں نہیں کر رہے۔ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سلیم مظہر نے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی قوت، جغرافیہ، طاقتور فوج اور وسائل دنیا کو کھٹکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چین سے اپنے تعلق مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک میں جو تھوڑی سستی آئی ہے اسے تیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر انسانی حقوق تنظیمیں، لبرٹی چوک پر شمع  جلانے والا گروپ اور ملالہ یوسف زئی نظر نہیں آ رہی۔ بشپ ابراہم ڈینئیل نے کہا کہ مسیحی برادری مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ ہے اور بشپ آف سری نگر نے ویٹی کن سے اپیل کی ہے کہ دنیا بھر کے چرچ کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ سردار آکاش سنگھ نے کہا کہ بھارت سیکولر ریاست نہیں ہے بلکہ آر ایس ایس کے نظریے پر چل رہا ہے انہوں نے کہا کہ بھارت میں تمام اقلیتیں انتہا پسند ہندووں کے شر سے محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کو خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سکھ برادری کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔