قوم عمران خان کی کال کی منتظر ہے، وائس چانسلر پروفیسر نیاز احمد

پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے لاہور میں بڑی ریلی
لاہور (27ستمبر،جمعہ): وائس چانسلر پنجاب یو نیورسٹی پروفیسر نیاز احمداختر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کریں، اگر اقوام متحدہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کرا سکتی تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے فیصل آڈیٹوریم سے براستہ گیٹ نمبر2تا گیٹ نمبر 1تک نکالی گئی لاہور کی بڑی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب مسرت جمشید چیمہ، پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مظہر سلیم، چائنیز طلبہ اور ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ، ملازمین، طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر نیاز احمد نے کہا کہ ریلی سے پنجاب یونیورسٹی بڑا واضح پیغام دینا چاہتی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے اقوام متحدہ میں خطاب سے کرتے ہوئے جو بھی فیصلہ کریں گے، ہم ان کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کی کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کادنیا بھر سے رابطہ منقطع ہوئے دو ماہ ہونے والے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی قومی معاملات میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے، پاکستان کی عوام پاک فوج، کشمیریوں اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج اور قوم کشمیر کی آزادی کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ ایم پی اے مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب ہندوستان میں خالصتان اور نئی اسلامی ریاست وجود میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کو پیغام مل چکا ہے کہ مودی ان کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہندو، سکھ، عیسائی سمیت تمام اقلیتیں کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ ریلی میں شریک اساتذہ، ملازمین اور طلباؤطالبات نے پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے، ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور’کشمیر کو انصاف دو‘جیسے درج نعروں پر مشتمل پلے کارڈز اور بینرزاٹھا رکھے تھے۔
شرکاء نے مودی حکومت اور بھارتی جارحیت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔دوسری طرف پنجاب یونیورسٹی سنٹر فار ساؤتھ ایشین سٹڈیز کے زیر اہتمام ’کشمیر اور پاکستان‘ کے موضوع پر سیمینار میں بریگیڈئر (ر) نادر میرنے کہا کہ کشمیریوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرانے لئے کیلئے متحرک مہم چلانے کی ضرورت ہے اور طلباؤ طالبات سوشل میڈیا کے ذریعے مظلوم کشمیریوں سے ہمدردی اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سنٹر پروفیسر ڈاکٹر عنبرین جاوید، فیکلٹی ممبران اور ایم فل /پی ایچ ڈی سکالرز نے شرکت کی۔

اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب مسرت جمشید چیمہ، پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مظہر سلیم، چائنیز طلبہ اور ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ، ملازمین، طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر نیاز احمد نے کہا کہ ریلی سے پنجاب یونیورسٹی بڑا واضح پیغام دینا چاہتی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے اقوام متحدہ میں خطاب سے کرتے ہوئے جو بھی فیصلہ کریں گے، ہم ان کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کی کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کادنیا بھر سے رابطہ منقطع ہوئے دو ماہ ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی قومی معاملات میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے، پاکستان کی عوام پاک فوج، کشمیریوں اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج اور قوم کشمیر کی آزادی کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔

ایم پی اے مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب ہندوستان میں خالصتان اور نئی اسلامی ریاست وجود میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کو پیغام مل چکا ہے کہ مودی ان کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہندو، سکھ، عیسائی سمیت تمام اقلیتیں کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ ریلی میں شریک اساتذہ، ملازمین اور طلباؤطالبات نے پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے، ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور’کشمیر کو انصاف دو‘جیسے درج نعروں پر مشتمل پلے کارڈز اور بینرزاٹھا رکھے تھے۔ شرکاء نے مودی حکومت اور بھارتی جارحیت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔دوسری طرف پنجاب یونیورسٹی سنٹر فار ساؤتھ ایشین سٹڈیز کے زیر اہتمام ’کشمیر اور پاکستان‘ کے موضوع پر سیمینار میں بریگیڈئر (ر) نادر میرنے کہا کہ کشمیریوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرانے لئے کیلئے متحرک مہم چلانے کی ضرورت ہے اور طلباؤ طالبات سوشل میڈیا کے ذریعے مظلوم کشمیریوں سے ہمدردی اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سنٹر پروفیسر ڈاکٹر عنبرین جاوید، فیکلٹی ممبران اور ایم فل /پی ایچ ڈی سکالرز نے شرکت کی۔