پنجاب یونیورسٹی:معلومات تک رسائی کے موضوع پر کانفرنس کاانعقاد

آرٹی آئی قانون کے ثمرات حاصل کرنے کیلئے کپیسٹی بلڈنگ کی ضرورت ہے، مقررین
لاہور (14اکتوبر،سوموار): پنجاب یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ معلومات تک رسائی کے قانون کے ثمرات حاصل کرنے کیلئے تحقیقاتی صحافت کرنے والے صحافیوں کی صلاحیتوں میں اضافے کی ضرورت ہے۔وہ پنجاب یونیورسٹی ادارہ علوم ابلاغیات ہیومین رائٹس چیئر کے زیر اہتمام الرازی ہال میں منعقدہ ایک روزہ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سینیٹر ولید اقبال، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر نیازا حمداختر، سینئر صحافی فہد حسین، عبدالمالک، انچارج پنجاب یونیورسٹی ہیومین رائٹس چیئر ڈاکٹر بشریٰ رحمان، چیف انفارمیشن کمشنر پنجاب محبوب قادر، ناروے اعزازی قونصلر نوین فرید، یونیسکو نمائندگان، ملیحہ شاہ، اسسٹنٹ پروفیسر فہد محمود، صحافی، فیکلٹی ممبران اور طلباؤ طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اپنے خطاب میں سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ پاکستان کے قانون کا آرٹیکل19چند حدود کے ساتھ آزادی اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کا حق استعمال کرنے والوں کو دوسروں کی ساکھ کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معلومات تک رسائی کے قانون و ضوابط کا اصل مقصد اداروں میں قوانین سے ہٹ کر کام کرنے سے متعلق معلومات کا اجرا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر نیا زاحمد نیاز احمد نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں عوام سے متعلق تمام معلومات کو ویب سائٹ پر شیئر کیا جاتا ہے کیونکہ معلومات تک رسائی شفافیت کو یقینی بناتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس، میرٹ اور قانون کی بالادستی پنجاب یونیورسٹی میں ہر سطح پرموجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں اچھی کارکردگی نہ دکھانے والے ادارے اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی نے سب سے پہلے ہیومین رائٹس چیئر قائم کی۔ انہوں نے صحافیوں پر زورد یا کہ وہ مثبت سرگرمیوں کو اجاگر کریں تاکہ دنیا میں پاکستان کا بہترین تشخص قائم ہوسکے۔ سینئر صحافی فہد حسین نے کہا کہ میڈیاانڈسٹری کو مالی مشکلات اور صحافیوں کے بہتر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت جیسے دوبحرانوں کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کئے بغیر معلومات تک رسائی کے قانون سے صحیح طور پر فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا وہی دکھاتا ہے جو ناظرین دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر دباؤ کے باعث فطری انداز میں میڈیا کی نشوونما کا عمل رک گیا ہے اورعوام کی توقعات کے مطابق کام کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ صحافت کے شعبے میں قومی سطح جدید تقاضوں کے مطابق نصاب ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔سینئر صحافی عبد المالک نے کہا کہ چینلز پر ریٹنگ کی دوڑ نے صحافت کا معیار اور مواد بری طر ح متاثرکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے لیکن اس پر آگاہی پروگرام کرنے پر ریٹنگ صفر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ معلوما ت تک رسائی کے قانون کی خلاف وزری کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جانی چاہیے تاکہ اس قانون پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا صحافت ایک مشکل پیشہ ہے لیکن نئے آنے والوں کو اچھی نیت اور ذمہ داری اس شعبہ کا اپنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی صحافت پر مافیا کی طرف سے رد عمل پر کوئی آپ کے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا۔چیف انفارمیشن آفیسر محبوب قادر نے کہا کہ معلومات تک رسائی کا قانون خاموش انقلاب ہے۔ انہوں نے کہاکہ معلومات تک رسائی کا حق زندگی جینے کے حق کی طرح ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹی آئی کا مقصد گڈ گورننس کو یقینی بنانا اور کرپشن کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معلومات تک رسائی کے قانون کے بارے میں لوگوں کو آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اداروں میں ریگولر پبلک انفارمیشن آفیسر ہونے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب انفارمیشن کمیشن نے ایک سال میں 1600نئی اور 1700 زیر التواء شکایات پر فیصلہ دیا ہے۔ انچارج پنجاب یونیورسٹی ہیومین رائٹس چیئر ڈاکٹر بشریٰ رحمان نے کہا کہ معلومات تک رسائی کا قانون تحقیقاتی صحافت میں بڑا کردارادا رکر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں ہمیں غلط فہمیوں، ادھوری یا جھوٹی معلومات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا حقائق کو جاننے کیلئے اکیڈیما اور پیشہ ور صحافیوں کو مل کر چیلنجز سے نمٹنا ہوگا۔ بعد ازاں سینئر صحافیوں اور طلباؤ طالبات کے درمیان پینل بحث منعقد ہوئی جس میں ایک دوسرے کے خیالات اور تجربات سے سیکھنے کا موقع ملا۔پینل بحث محمد عثمان، عبد الرؤف، طاہر ملک، شہزادہ عرفان احمد، اجمل جامی، ذوالقرنین طاہر، تاثیرمصطفی، ہما صدف، عاصم نصیر، سبوخ سید، سلیمان عابد، طاہر سعید، رب نواز خان، ارم غنی، شائستہ معراج، ترہب اصغر، نوید نسیم، لقمان شیخ، فرحان احمد ودیگر نے حصہ لیا۔