پنجاب یونیورسٹی میں سر سید کی ۲۰۲ ویں سالگرہ منائی گئی

”سر سیدؒ:خرد مندوں کے امام“ سیمینار منعقد،  کیک کاٹا گیا
 مسلمان  ہر میدان مین ہار رہے ہیں سرسید کے تعلیم سے جُڑے سیاسی فلسفے کو از سرِنو لاگو کرنا ہوگا؛ مقررین
لاہور (18اکتوبر،جمعہ):: سر سید احمد خان کی ۲۰۲ ویں سالگرہ کے موقع پر پنجاب یونیورسٹی ادارہ علوم ابلاغیات اور لبرل ہیومن فورم کے اشتراک  سے”سر سیدؒ:خرد مندوں کے امام“کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب میں مجیب الرحمن شامی‘سجاد میر‘ڈاکٹر مجاہد منصوری‘یاسر پیر زادہ‘افضال ریحان‘ڈاکٹر نوشینہ سلیم‘ڈاکٹر شبیر سروراور طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر دو قومی نظریہ کے بانی سر سیدؒ احمد خان کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔
مقررین نے سرسید کی تعلیمی‘ صحافتی اور معاشرتی خدمات پر آ پ کو زبر دست خراج تحسین پیش کیا۔مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ سر سید کی زندگی سے اہم پیغام ملتا ہے کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتی‘سر سیدؒ کے تعلیمی اداروں خصوصاً علی گڑھ یونیورسٹی کے باعث افراد کی ایسی کھیپ تیار ہوئی جس نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا لیکن آ ج ہم سر سید ؒ کا پیغام بھول چکے ہیں،کروڑوں طلباء اسکولوں سے باہر ہیں اور تعلیم کا معیار بھی کم تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔
سجاد میر نے کہا کہ سر سیدؒ نے اپنی کتاب کے ذریعے ایک  فرنگی کی حضور کی شان میں گستاخی پر مبنی کتاب کا جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر میرے گھر کے برتن بھی بک جائیں تب بھی یہ کتاب لکھوں گا۔انہوں نے مسلمانان ِ  پاک و ہند کی معاشرتی ترقی اور قیام پاکستان کیلئے اہم کردار کیا۔
ڈاکٹر مجاہد منصوری نے کہا کہ قلم کی طاقت کے ذریعے بر صغیرکے ہارتے ہوئے مایوس مسلمانوں کی ہمت بڑھائی اور انہیں قلم و کتاب تھمایا تاکہ وہ آزادی کیلئے عملی تیاری کریں۔ اسطرح وہ اپنے بہترین ابلاغ کے ذریعے جذباتی اور مایوس لوگوں کے رویوں کو بدلنے میں کامیاب ہوئے۔انہوں نے تعلیم کو سیاست سے جوڑ کر قوم میں وحدت اور قوت پیدا کی۔انہوں نے میڈیا کی آزادی پر قدغن لگانے کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی پابندیاں تو ڈکٹیٹر شپ کے دور میں بھی نہیں ہوا کرتی تھیں۔ انہوں نے احتساب اور ابلاغ وآگاہی کے فروغ میں میڈیا کے کردار کو سراہا اور حکومت کو خبردار کیا کہ میڈیا پر پابندی معاشرے اور خود حکومت کیلئے انتہائی خطرناک ہوگی۔
صدر لبرل ہیومن فورم کے صدر افضال ریحان نے کہا کہ معاشرے میں لبرل آوازوں کو سننے کی برداشت پیدا کرنی چاہیے کیونکہ اس سے معاشرتی ارتقاء  و ترقی جُڑی ہوئی ہے۔
انچارج ادارہ علوم ابلاغیات ڈاکٹر نوشینہ سلیم نے کہا کہ صحافت کے طلباء سرسید کے پیغام اور عمل سے سیکھیں۔  ڈاکٹر شبیر سرور نے کہا کہ آج مسلمان ہر میدان میں پسپا ہو رہے ہیں ہمیں سرسید کے تعلیم کے فلسفے کو از سرِنو سائنسی بنیادوں پر لاگو کرنے کی اشد ضرورت ہے۔آپ نے پہلے انگریزوں کا دل جیتا پھر دو قومی نظریے کی بنیادرکھی۔
پروگرام کے آخر میں مقررین اور طلباء نے سر سیدؒ کی۲۰۲ویں سالگرہ کا کیک کاٹااور اس موقع پر اہم سیمینار منعقد کروانے پر ادارہ علوم ابلاغیات اور لبرل ہیومن فورم کی کاوشوں کو سراہا۔