سماجی اور معاشرتی ترقی کی بنیاد علمی ترقی ہے۔ڈاکٹرعطاالرحمن

لاہور (6نومبر،بدھ):سابق چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وائس چیئرمین پرائم منسٹر ٹاسک فورس آن ٹیکنالوجی بیسڈ نالج اکانومی پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں علم کا کلیدی کردار ہے اور ہماری یونیورسٹیوں کو ملکی ترقی میں حصہ ڈالنے کیلئے فنڈنگ کی اشد ضرورت ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ’مالیکیولر سائنسز میں نئے رجحانات‘ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے فیصل آڈیٹوریم میں خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر نیاز احمد اختر، ڈین فیکلٹی آف لائف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر فردوس بریں، ڈائریکٹر سکول آف بائیولوجیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر وحید اختر،برطانیہ سے پروفیسر ڈاکٹر جیمز ایچ نیسمتھ، آسٹریلیا سے پروفیسر ڈاکٹر پال اے گلیسن، چائنہ سے پروفیسر ڈاکٹر زینگ ای چینگ، ڈاکٹر صائمہ صدف، لائف سائنسز، فارمیسی، سائنسز اور ہیلتھ سائنسز کے فیکلٹی ممبران، امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، فرانس، چائنہ، ایران، سعودی عرب، روس اورپاکستان بھر سے 1000سے زائد نوجوان سائنسدان، محققین اور طلباؤ طالبات نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر عطاء الرحمان نے کہا کہ تعلیم پر سرمایہ کاری کرنے والے ممالک نے تیزی سے ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں پاکستان نے بھی اعلیٰ تعلیم کے میدان میں بے مثال ترقی کی ہے جسے دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2018ء میں دس ملین فی کس افراد کی تحقیقی پیداوار کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی محققین 916 ویں جبکہ بھارت کے اعداد و شمار 708ہیں اور یوں پاکستانی محققین نے بھارت کے سائنسدانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20دسمبر 2018ء کو نیچر پبلشنگ گروپ نے تحقیق کے میدان میں سب سے ذیادہ ابھرنے والے ممالک میں پاکستان کو نمبر ون قرار دیا ہے جبکہ اس مقابلے میں پاکستان نے مصر، مین لینڈ چائنہ، ہانگ کانگ، انڈیا، برازیل،میکسیکو سمیت دیگر ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ڈاکٹر عطاء الرحمان نے کہا کہ 2016ء میں تھامسن رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستانی محققین کی تحقیقات کا حوالہ برازیل، روس، انڈیا اور چائنہ سائنسدانوں سے کے مقابلے ذیادہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نالج اکانومی کے باعث ترقی کرنے والے ممالک میں سنگاپور بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگاپور کی آبادی 5ملین ہے اور قدرتی وسائل بھی نہیں ہیں تاہم انہوں نے انسانی وسائل پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ہائی ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ کے ذریعے اپنی ایکسپورٹ کے حجم کو 330بلین ڈالر تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا ۵۶ فیصد بیس سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے جو کہ ہمارا اثاثہ ہیں۔ ڈاکٹر عطاء الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کیلئے ہمیں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہو گا۔وائس چانسلر پروفیسر نیاز احمد نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ لائف سائنسز فیکلٹی کے اساتذہ اور طلباء کے 112تحقیقی منصوبہ جات کی فنڈنگ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیچر پبلشنگ  پنجاب یو نیورسٹی کو پاکستان میں نیچرل سائنسزریسرچ کی رینکنگ میں نمبر ون قرار دے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے 60فیصد اساتذہ پی ایچ ڈی ہیں۔ انہوں نے کہا ترقی و نئے رجحانات اعلیٰ تعلیم کے مرہون منت ہیں۔انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں سماجی اقتصادی ترقی کے حامل نئے آئیڈیاز اور تحقیقی منصوبوں پر کام کریں اور پنجاب یونیورسٹی ایسے پراجیکٹس کی فنڈنگ کرے گی۔ کانفرنس کے کنوینر اور ڈائریکٹر سکول آف بائیولوجیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمد وحید اختر نے کہا کہ کانفرنس میں دنیا بھر سے لائف سائنسز، فارمیسی، سائنسز اور ہیلتھ سائنسز سے تعلق رکھنے والے معروف سائنسدان، ریسرچ سکالرز اور طلباؤ طالبات شرکت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پودے، جانوروں، صحت، دواسازی، ماحولیاتی علوم وغیرہ میں جدید رحجانات کے پیش نظر کانفرنس کے موضوع کا انتخاب کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی قریب میں زندگی کے نظام کو سمجھنے والے عوامل میں پیش رفت دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کینسر جیسی دیگر موذی بیماریوں کے متعلق آگاہی فراہم ہوگی۔ڈاکٹر محمد وحید نے کہا کہ نئے علوم کے باعث  ٹی بی، کینسر سمیت دیگر بیماریوں کے علاج میں مددمل سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ان شعبوں میں اہم ترین کام کرنے والے افراد بھی اس کانفرنس میں شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں 6ابتدائی سیشنز، 30لیکچرز، 84زبانی اور 450پوسٹر پریزنٹیشنزپیش کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس نوجوان سکالرز کو معروف سائنسدانوں کے تجربات سے روشناس کرانے کا بہترین موقع ثابت ہوگی۔ بعد ازاں وائس چانسلر پروفیسر نیاز احمد نے پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان کی تعلیمی میدان میں خدمات کے اعتراف میں گولڈ میڈل پیش کیا۔