سماجی مذہبی ہم آہنگی کے ذریعے امن اور برداشت کے کلچر کو فروغ دیا جا سکتا ہے، پنجاب یونیورسٹی میں بین الاقوامی کانفرنس

لاہور (13نومبر،بدھ): پنجاب یونیورسٹی میں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب انسانی تعلقات میں اعلیٰ اخلاقی اقدار پر زور دیتے ہیں اسی لئے سماجی و مذہبی ہم آہنگی کے ذریعے امن اور برداشت کے کلچر کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز اور برطانیہ کی معروف یونیورسٹی آف لیڈز اشتراک سے مذہب اور معاشرہ پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس میں صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم راجہ یاسر ہمایوں،چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر فضل احمد خالد، وائس چانسلرپروفیسر نیاز احمداختر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سلیم مظہر،ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر روبینہ ذاکر،برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز کے معروف سوشل سائنٹسٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمان سید، ڈاکٹر عمر عبداللہ، ڈاکٹر یاسمین حسین، ملک کی مختلف یونیورسٹیوں سے محققین، فیکلٹی ممبران اور طلباؤ طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں نے کہا کہ اسلام امن، محبت اور انسانیت کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ نے پہلی مرتبہ مدینے میں ایک مثالی معاشرے کی بنیاد رکھی جس میں سماجی انصاف تھا اور ہر مذہب اور سوچ سے تعلق رکھنے والوں کو بنیادی حقوق میسر تھے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ نے دنیا کو انسانیت کا نظریہ متعارف کرایااور دوسروں کی عزت کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے میں اسلام کسی انتہا پسند تعلیمات کی بجائے برابری اور امن کے پیغام کے باعث پھیلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مذہب اور سوچ میں ایسے افراد ہوتے ہیں جو انتہا پسند ہوتے ہیں تاہم وہ اپنے مذہب کی صحیح نمائندگی نہیں کر رہے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب میں انتہا پسند اسلام اور اعتدال پسند اسلام کی باتیں ہوتی ہیں تاہم ہمارا اسلام ایک ہی ہے جو حضرت محمد ﷺ نے ہمیں دیا ہے جس کا پیغام امن اور بھائی چارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر میں جو ہو رہا ہے اس کا تعلق مذہب سے نہیں ہے بلکہ یہ ان مظالم کا ردعمل ہے جو ان پر ڈھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل تحفظ اور مذہبی آزادی حاصل ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد نے کہا کہ تعلیم ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معاشرتی مسائل کے حل کے لئے ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کرنا چاہئے اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینا چاہئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ یہ یونیورسٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایجادات، اختراعات، نئے علم، تربیت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے معاشرے کے مسائل حل کرنے میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام صرف ایک مذہب کا نام نہیں بلکہ یہ مکمل ضابطہ حیات ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن معاشروں نے اللہ کی نافذ کردہ حدود سے تجاوز کیا انہیں تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دوسروں کے خیالات کی عزت کرنی چاہئے اور امن اور برداشت کے فروغ کے لئے اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا چاہئے۔ پاکستان کے مفکر علامہ اقبال کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال ایک غیر معمولی انسان تھے اور وہ اللہ کا دیا ہوا خاص تحفہ تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر سلمان سید نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں مذہب اور معاشرہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے بارے میں خود جاننا چاہئے نہ کہ بیرونی عناصر ہمارے بارے میں بتائیں کہ ہم کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی یونیورسٹیوں کو ترقی کی ایسی نئی راہیں متعین کرنی چاہئیں جو ہمارے ان مقاصد کی تکمیل کر سکے جس کے لئے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر نے اپنے کلیدی خطاب میں علامہ اقبال کی شاعری میں اسلامی نظریات کے مختلف پہلو اجاگر کئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر روبینہ ذاکر نے کہا کہ مذہب تحمل،برداشت اور بردباری کا درس دیتا ہے لیکن بد قسمتی سے کچھ قوتیں ان عوامل کا استعمال معاشرے میں تقسیم اور امتیاز کیلئے کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معاشرے میں مذہب کے مثبت، تعمیری اورپر امن پہلوؤں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ ڈاکٹر روبینہ نے کہا کہ ملک میں مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر اور معاشی ترقی کے حصول کیلئے مربوط اور جامع انسانی ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن اور مذہبی ہم آہنگی کیلئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ موثر اور قابل عمل سماجی تحقیق کے ذریعے مذہبی عدم رواداری کی بنیادی وجوہات کوختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک ایسی سماجی پالیسی کی ضرورت ہے جو معاشرے میں تبدیلی کا باعث بن سکے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں تحقیقی کلچر کو فروغ دینے اور انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز میں قومی و بین الاقوامی کانفرنسز کے انعقاد کیلئے تعاون پر وائس چانسلر پروفیسر نیاز احمد کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔