ایچ ای سی کے زیرتحت جامعات کے سی پیک کنسورشیم کی تیسری سالانہ کانفرنس کا آغاز

اسلام آباد 18نومبر، 2019: ہایئر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے زیر انتظام تیسری سالانہ دو روزہ سی پیک کنسورشیم آف یونیورسٹیز کی کانفرنس کا جناح کنونشن سنٹر، اسلام آباد میں بروز سوموار آغاز ہوگیا ہے۔ اس کانفرنس کااس سال کا موضوع ہے: پائیدار تعلقات کے لیے تعلیمی شراکت داریاں۔
وفاقی وزیر برائے پلاننگ، ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم، مخدوم خسرو بختیار اس کانفرنس کے مہمان خصوصی تھے جبکہ پاکستان میں چین کے سفیر، یاؤ جنگ، کنسلٹنٹ سی پیک،ایچ ای سی لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد اصغر، وائس پریذیڈنٹ چائنیز ایسو سی ایشن آف ہایئر ایجوکیشن، گوان پی جن اور چیئرمین اسٹریٹجک پالیسی پلاننگ سیل، ڈاکٹر معید یوسف نے بھی شرکت کی۔
جامعات کے سی پیک کنسورشیم کو اسلام آباد میں اگست2017میں سی پیک کنسورشیم آف بزنس اسکولز کے طور پر قائم کیا گیا تھا تاکہ پاکستان اور چین کے مابین کاروباری روابط کو مستحکم کیا جا سکے اور پاکستان میں انڈسٹریل پارکس میں چینی کاروبار کی منتقلی میں مدد فراہم کی جا سکے۔ ایچ ای سی اور چائنہ ایسوسی ایشن آف ہایئر ایجوکیشن کے اشتراک سے نو چینی اور دس پاکستانی بزنس اسکولز اور جامعات کا کنسورشیم بنایا گیا تھا۔تاہم کنسورشیم کے دائرہ کار کو اعلی تعلیم کے دیگر عناوین تک بڑھا دیا گیا۔ اس وقت دونوں ممالک کی 56جامعات اس کنسورشیم کا حصہ ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مخدوم خسرو بختیار نے امید ظاہر کی کہ اس کنسورشیم سے دونوں ممالک کے تعلقات کا دائرہ کار مزید وسیع ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کنسورشیم میں شامل عناصر کی بدولت دونوں ممالک کی عوام کے درمیان روابط میں بہتری آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ تعلیمی برادری کے اشتراک سے معاشی ترقی کا راستہ ہموار ہوگا اور یہ چوتھے صنعتی انقلاب سے مماثلت رکھتا ہے۔
وفاقی وزیر نے جامعات پر زور دیا کہ وہ اہم شعبہ جات کو درپیش مسائل کا ادراک کریں اور پاکستان کو درپیش ان مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے تحقیق کریں۔ انھوں نے کہا کہ ڈیٹا سائنس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ٹیکنالوجی اور زراعت میں باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید براں انھوں نے اعلی تعلیمی سیکٹر کو حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
اپنے خطاب میں چینی سفیر نے کہا کہ جامعات کے سی پیک کنسورشیم سمیت چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دیگر پروجیکٹس پاک۔ چین دوطرفہ تعلقات کی عمدہ مثال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کنسورشیم کی بدولت دونوں ممالک کے افراد کا آپس میں رابطہ ممکن ہے۔

ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ یہ دور عالمگیریت کا ہے کہ جس میں جامعات کا یہ کنسورشیم چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تکمیل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انھوں نے جامعات کی حوصلہ افزائی کی کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا ادراک کر کے ان مسائل کے حل تجویز کیے جائیں اور نتائج سے اسٹریٹجک پالیسی پلاننگ سیل کو مطلع کیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی اعلی تعلیمی برادری کو پالیسی سازوں کو بتانا چاہیے کہ ملک کو درپیش مسائل کیسے حل کیے جا سکتے ہیں تاکہ مؤثر پالیسی سازی کی جا سکے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد اصغرنے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں چین سے سیکھنا چاہیے کہ کیسے اس نے اپنی آبادی کو خط غربت سے نکالا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چین کی معاشی ترقی اس کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس، 5G، بائیو ٹیکنالوجی، کوآنٹم کمپیوٹنگ، اور دیگر ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ترقی کی مرہون منت ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت تقریباً 28000پاکستانی طلباء چینی جامعات میں زیر تعلیم ہیں اور یہ کنسورشیم معاشی و اقتصادی ترقی کے لیے پاکستان اور چین کا مشترکہ پلیٹ فام ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کانفرنس کے متفرق سیشنز میں تعلیمی شراکت دار وں کے مابین تعلیمی تعلقات کا جائزہ لینا، انسانی وسائل کی استعداد کار میں بہتری کے لیے باہمی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنا، دونوں ممالک کی جامعات کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم کرنا، تہذیبی ہم آہنگی اور عام عوام کے درمیان تعلقات استوار کرنا، مشترکہ کانفرنسز، سیمینارز اور ورکشاپس کی منصوبہ بندی کرنا، اعلی تعلیم کی عالمگیریت کے لیے کوشش کرنااور سی پیک کے ذریعے تاریخی منتقلی میں معاونت کرنا شامل ہیں۔

اس موقع پرشریک جامعات کی جانب سے اعلی تعلیم، سائنس، آرٹس اور ٹیکنالوجی سے متعلق ایکسپو بھی منعقد کی گئی ہے۔
اس کانفرنس کے پہلے دن میں تین سیشن ہوئے جن میں قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے ریسرچ جامعات کی تشکیل، گریجویٹس کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ٹیچنگ ایکسی لینس، سی پیک پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے قومی اور علاقائی مسائل کو حل کرنے کے لیے تحقیق شامل ہیں۔