پنجاب: محکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ صحت پروفائل پروفارمہ میں جنسی سوالات پراساتذہ اورطلبابرہم

لاہور(۲۲جنوری): پنجاب حکومت محکمہ ہائیرایجوکیشن کی جانب سے تعلیمی اداروں میں طلباکے ہیلتھ پروفائل اکٹھاکرنے کاکام کردیاگیاہے۔اس ضمن میں ایک پروفارما بھیجاگیاہے جس پراستاتذہ اورطلباکی کثیرتعدادنے سخت ردعمل کااظہارکیاہے۔ بالخصوص سوالنامے کی آخری شق پرسخت اعتراضات اٹھائے گئے ہیں جس میں
 طلبہ سے ان کے جنسی تعلقات اور کلاس میں چوری یا تاخیر سے آنے کا ریکارڈ بھی درج کرنے کاکہاگیاہے اوران سے ان کاموں میں شمولیت کی تاریخ پوچھی گئی ہے۔

گورنمنٹ سائنس کالج کی طالبہ ارم(فرضی نام) نے نوائے مکتب سے بات چیت میں کہا انہیں کالج انتظامیہ کی جانب سے میڈیکل ریکارڈ سے متعلق پرفارمہ دیاگیاہے۔ہم نے پرفارمہ پرنہیں کیااورنہ ہی واپس جمع کروایاہے کیونکہ اس میں انتہائی ناشائستہ اورغیرمہذب سوالات پوچھے گئے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہاہے کہ ایسا پروفارمہ بنانے والے کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔

سیکرٹری جنرل تحریک اساتذہ پنجاب جنیداحمدخان نے نوائے مکتب کوبتایاکہ محکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے ہیلتھ پرفامہ کے نام پر طلبہ و طالبات سے ناشائستہ جنسی سوالات جس میں یہ پوچھنا کہ آپ جنسی عمل میں ملوث ہونے کی تاریخ بتائیں اسلامی نظریاتی ریاست میں سمجھ سے بالا تر ہے، تحریک اساتذہ پنجاب اس عمل کی شدید مذمت کرتی ہے۔

محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری طارق حمید بھٹی نے میڈیا کے نمائندے کوبتایاکہ میڈیکل سے متعلقہ شقیں بالخصوص جنسی شق محکمہ صحت کی جانب سے بھجوائی گئی تھی اورانہوں نے اسے تبدیل کیے بغیرپرنٹ کرواکرکالجوں اور یونیورسٹیوں کو بھیجے گئے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ پرفاموں میں شامل قابل اعتراض شقوں پر دوبارہ غور کیاجاسکتاہے اورمیرٹ کے خلاف ہونے کی صورت میں یہ سوالات پرفاموں سے حذف کر دیے جائیں گے۔