بینظیر انکم سپورٹ فنڈ کے بعد بیورو کریٹس کایتیموں کےسکالرشپ پرڈاکہ

رپورٹ: طالب فریدی

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ان کرپشن سکینڈلز کی کھوج لگاتے لگاتے شائد میں پاگل ہو جاؤں گا لیکن یہ شیطان کی آنت کی مانند کبھی ختم نا ہونگے
ابھی تک اپ نے سندھ حکومت کی طرف سے زکوٰۃ کا پیسہ ہڑپ کرنے، بیوروکریسی کے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈکارنے سمیت ہزاروں سکینڈل پروف کے ساتھ اسی پیج پہ پڑھے لیکن یہ سکینڈل ایسا ہے کہ جس کے پروف میرے ہاتھ میں ہونے کے باوجود میں حیران ہوں کے کیا ایسا بھی ہو سکتا؟
ہم بطور قوم اس حد تک بھی گھٹیا ہو سکتے ہیں؟
سندھ کی بیورو کریسی نے صرف زکوٰۃ ہی ہڑپ نہیں کی بے نظر انکم سپورٹ پروگرام سے غریب، بیوہ عورتوں کا حق ہی نہیں کھایا یہ بدبخت بیوروکریسی یتیم بچوں کا حق بھی کھا گئی
سندھ میں غریب یتیم بچوں کی تعلیم کے 750 ملین روپے
ایڈومنٹ فنڈ کے نام پر فنانس ڈویژن نے جاری کیے
اس فنڈ کو ریوڑیوں کی طرح اپنوں میں ہی بانٹا گیا
کس طرح بانٹا گیا اس کے لیے اپ کو پروف کے ساتھ سمجھاتی ہوں
سندھ سیکریٹریٹ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز 11 افسران نے خود کو غریب اور نادار ظاہر کر کے اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ کو اسکالر شپ دینے کی درخواست دی جس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے گیارہ غیر مستحق بچوں کو اسکالرشپ دینے منظوری دی۔
عجیب بات یہ کہ تمام کے تمام گیارہ بچوں کے والدین سیکریٹریٹ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور ان کے والدین کی تنخواہیں اور مراعات لاکھوں روپے ماہانہ ہیں
انڈومنٹ فنڈ کے حکام نے ان بچوں کو اسکالر شپ دینے کی مخالفت کی تھی تاہم وزیر اعلیٰ سندھ نے محکمہ کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے فنڈز دینے کا حکم دیا۔
سب سے ہولناک انکشاف یہ کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے ایڈیشنل سیکریٹری سروسز مسز عفت ملک کی بیٹی عروا عفت کو 42 لاکھ دینے کی منظوری دی جو امریکا میں زیر تعلیم ہے۔ سیکریٹری بین الصوبائی منصور عباس رضوی کی دو بیٹیوں کو 7 لاکھ اور تیسری بیٹی کو 43 کی رقم دی گئی، ان کی دو بیٹیان ضیا الدین اور ایک بیٹی امبر رضوی ڈائیوو میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ سیکریٹری اقلیتی امور فاروق اعظم کی دو بیٹیوں کو 40 لاکھ کی اسکالر شپ دی ، گئ
اقبال نفیس خان نے 30 لاکھ امداد علی شاہ نے 8 لاکھ روپے اپنے بچوں کی اسکالر شپ کے لئے وصول کئے
اسی طرح اپ لاکھوں روپے باٹنے کی لسٹ پڑھتے جائیے دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ نے تمام اسکالر شپ خصوصی طور پر منظور کی
لاکھوں روپے مراعات اور تنخواہ پانے کے باوجود غریب یتیم بچوں کا فنڈ بھی ان مگرمچھوں کے بچوں پر لُٹا دیا گیا
اور لُٹانے والا بھی اُسی صوبے کا حاکم
جس زمین پر غریب، یتیم حق کھایا جاتا ہو اس پہ عذاب ہی نازل ہوتا ہے

إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا ( سورة النساء : 10

جولوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے
یا اللہ پاک رحم فرم