پنجاب یونیورسٹی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن نے سفید پوش خاندانوں کی مالی امداد کے لئے قرض حسنہ فنڈ قائم کرنے کا اعلان

لاہور (ہفتہ 11  اپریل، 2020)  پنجا ب یونیورسٹی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن نے کرونا وائرس کی وجہ سے  لاک ڈاون کے باعث ہاتھ نہ پھیلانے والے اور عزت نفس پر سمجھوتہ نہ کرنے والے خاندانوں کی مدد کے لئے قرض حسنہ فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب یونیورسٹی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کرونا وائرس میں یونیورسٹیوں کے سماجی کردار پر ورچوئل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ورچوئل کانفرنس میں چئیرمین اخوت فاونڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب نے خصوصی شرکت کی جبکہ صدر اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن پروفیسر ڈاکٹر ممتاز انور چوہدری، سیکرٹری جاوید سمیع، ڈین فیکلٹی آف اکنامکس اینڈ مینجمنٹ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر خالد محموداور یونیورسٹی کی تمام فیکلٹیوں سے اساتذہ نے شرکت کی۔ورچوئل کانفرنس میں اساتذہ نے نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد جو ہاتھ پھیلانا مناسب نہیں سمجھتے اس بحران میں ان کی امداد کے لئے پنجاب یونیورسٹی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن قرض حسنہ فنڈ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ آسا کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ممتازانور چوہدری نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد پائے جانے والے مستحق افراد کی ترجیحی بنیادوں پر مدد کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لئے یونیورسٹیوں کو اہم کردار ادا کرنا ہے کیونکہ اس بحران کی مختلف جہتیں ہیں جو مختلف سنگین مسائل کو پیدا کر رہی ہے ان سے نمٹنے کے لئے ٹیم ورک کے طور پر کام کرنا ہو گا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ تین ملین ایسے خاندانوں کا ڈیٹا موجود ہے جن کا تعلق نچلے متوسط طبقے سے ہے اور جنھیں اس بحران میں گزارا کرنے کے لئے کیش کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت بہت سے مواقع بھی لاتا ہے اور ایسے سانحات میں قوم اور معاشرے تعمیر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے باعث معاشی محاذ پر بھی ایک جنگ شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی قرض حسنہ فنڈ قائم کرتی ہے تو تکنیکی معاونت کریں گے۔ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ کرونا بحران ہر شعبہ اور افراد کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنے کا امتحان ہے یونیورسٹیوں کے تمام شعبہ جات اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے لئے آگے بڑھیں۔ ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف سوش اینڈ کلچرل سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر روبینہ ذاکر نے کہا کہ کرونا بحران کا مختلف پہلووں سے سامنا کرنے کے لئے ڈیٹا بیس تک محققین کی رسائی ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ کرونا کے مریضوں کی مختلف معلومات قومی سطح پر پالیسی بنانے میں مدد دیں گی۔ شعبہ فلسفہ کے انچارج شاہد گل نے کہا کہ جو لوگ گھر کا خرچ چلانے کے لئے دو دو نوکریاں کر رہے تھے وہ سخت مشکل کا شکار ہیں اور ان میں ذیادہ تر وہ لوگ ہیں جو مانگنے سے بہتر بھوکا رہنا پسند کرتے ہیں اور خود دار ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ ایگریکلچرل سائنسز کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا کہ پاکستان خوراک کے معاملے میں 90 فیصد خود کفیل ہے اس لئے  عوام خوراک کی دستیابی سے متعلق پریشان نہ ہوں اور نہ ہی بڑے پیمانے پر راشن ذخیرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی کے لئے آئندہ ہفتے فوڈ سیفٹی اور ڈائٹ ویلیو پر پروگرام شروع کریں گے۔ چئیرپرسن ڈیپارٹمنٹ آف سوشل ورک ڈاکٹر مہناز حسن نے کہا کہ پیشہ ور بھکاریوں کا مافیا مستحق افراد تک امداد پہنچانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ڈاکٹر سونیا عمر نے کہا کہ جن علاقوں میں لاک ڈاون کی خلاف ورزی ذیادہ ہو رہی ہے وہاں کے لوگوں میں آگاہی مہم شروع کرنے کی ذیادہ ضرورت ہے، شعبہ ذوالوجی سے ڈاکٹر بشری خان نے کہا کہ مختلف ممالک کے چڑیا گھروں میں بھی جانور کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں اس لئے انسانوں کے ساتھ ساتھ پالتو جانوروں سے بھی فاصلہ رکھنے کی ضرورت ہے۔