ہائر ایجوکیشن کمیشن تحقیقاتی مجلات کی نئی تعلیم دشمن پالیسی فوری واپس لے، یونیورسٹی اساتذہ

لاہور ( اتوار 19 اپریل، 2020  )  فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز (فپواسا) پنجاب کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ممتاز انور چوہدری اور پنجاب یونیورسٹی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جاوید سمیع نے کہا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان تعلیم دشمن پالیسیوں پر گامزن ہے اور تحقیقی مجلات کی نئی پالیسی پاکستان میں تحقیق کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چئیر مین اور ان کی ٹیم قصداََ ملکی اور مقامی تحقیقی جرنلز کو بند کرانے کے درپے ہیں اور کسی خاص ایجنڈے کے تحت ملک میں پہلے سے مخدوش تحقیقی کاموں کو مزید بند کرانے کی سازش کررہے ہیں جس کی فپواسا پنجاب اور  پنجاب ینورسٹی اے ایس اے کسی صورت اجازت نہیں دے گی۔  اس سلسلے میں یونیورسٹی پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تحقیقی مجلات سے متعلق نئی پالیسی کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اساتذہ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی مختلف پالیسیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ایچ ای سی کی بلاجواز اور تحقیق کش پالیسی کے حوالے سے ڈاکٹر ممتاز انور اور جاوید سمیع نے کہا کہ جون 2020ء سے تحقیقی مجلات کے متعلق ایچ ای سی کی لاگو ہونے والی پالیسی نہ صرف تعلیم دشمنی پر مبنی ہے بلکہ ملک میں جاری تحقیق کے عمل کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحقیق کش  پالیسی کے نتیجے میں پاکستانی تحقیقی مجلوں کی بجائے صرف بین الاقوامی تحقیقی جرنلز میں پاکستانی اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز تحقیقی مقالے شائع کرنے پرمجبور ہونگے جس کیلئے نہ صرف بڑی رقم ادا کرنی ہوگی بلکہ ایک تحقیقی مقالہ شائع کرنے کیلئے سالوں انتظار کرناہوگا۔ بیان میں کہاگیاکہ اس تحقیق اور ملک دشمن پالیسی کے نتیجے میں سالوں سے مسلسل شائع ہونے والے ریسرچ جرنلز یعنی Y,W,X اور Z کیٹگری بند ہوجائے گی اور صرف اور صرف بین الاقوامی جرنلز سکوپس اور جے سی آر جرنلز میں شائع شدہ تحقیقی مقالے کو ہی پروموشن اور دیگر کیلئے تسلیم کیاجائیگا انہوں نے کہا کہ ساری دنیا خصوصاََ ہمسایہ ممالک مقامی اور ملکی تحقیقی جرنلز کو معیاری بنا کر اپنے جامعات اور ریسرچ اسکالرز کیلئے مواقع پیدا کرتے ہیں جس سے ملکی سطح پر تحقیق اور تدریس میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی جاتی ہیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ممتاز انور اور سیکرٹری جاوید سمیع نے کہا کہ اس تحقیق دشمن نوٹیفکیشن کو فوراََ واپس لیاجائے اور ایچ ای سی جنوری وفروری 2020 میں مجلات کے تمام سب کمیٹیز کی میٹنگز کے تمام منٹس کا فوری نوٹیفیکشن جاری کرے۔ بصورت دیگر سخت احتجاج کیاجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایچ ای سی کے چیئرمین سمیت ڈائریکٹر جنرل آر اینڈڈی اور دیگر اعلی ذمہ داران کی تعلیم وتحقیق کش پالیسیوں کے خلاف فپواسا، مجلات کی ایڈیٹرز ایسوسی ایشن، محققین اور سول سوسائٹی کے علم دوست افراد کے ساتھ مل کر احتجاج کریں گے۔