پنجاب: سرکاری یونیورسٹیوں کی خودمختاری ختم، یونیورسٹی ایجوکیشن اب حکومتی ذمہ داری ہوگی

یونیورسٹیز ایکٹ میں تبدیلی کا نیا قانونی مسودہ تیار، سنڈیکیٹ ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور ججز کے ماتحت ہوگی، وائس چانسلر کے پاس سنڈیکیٹ کی چیئرمین شپ اور فیصلوں کا اختیار نہیں ہوگا، وی سی کیخلاف پیڈا ایکٹ کا بھی نفاذ ہوسکے گا۔ نیا قانونی مسودہ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): پنجاب حکومت کی جانب سےسرکاری یونیورسٹیوں کی خودمختاری ختم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ اس مقصد کیلئے یونیورسٹیز ایکٹ میں تبدیلی کا نیا قانونی مسودہ تیارکیا گیا ہے،

مجوزہ مسودہ کے مطابق سنڈیکیٹ کو ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور ججز کے ماتحت کیا جائے گا، جبکہ وائس چانسلر سے سنڈیکیٹ کی چیئرمین شپ اور فیصلوں کا اختیار بھی چھین لیا جائےگا، وی سی کیخلاف پیڈا ایکٹ کا نفاذ ہوسکے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت نے سرکاری یونیورسٹیوں کی خودمختاری ختم کرنے کے لئے یونیورسٹیز ایکٹ میں ترمیم کا مسودہ تیار کیا ہے۔ 1973ء سے 2019ء تک کے تمام یونیورسٹیز کے ایکٹ میں تبدیلیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یونیورسٹیز کا ترمیمی قانون پنجاب اسمبلی منظوری کیلئے پیش ہوگا۔ یونیورسٹیز ایکٹ میں تبدیلی کا مسودہ وزیر پنجاب ہائیرایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں کی ہدایت پر تیار کیا گیا ہے۔

مسودے کے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کی تمام سرکاری یونیورسٹیز کی خود مختاری ختم کرکے سنڈیکیٹ کو ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور ججز کے ماتحت کردیا جائے گا۔ ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور ججز سنڈیکٹ کے عہدوں پر تعینات ہوں گے۔ جبکہ وائس چانسلر سے سنڈیکیٹ اجلاس کی چیئرمین شپ اور فیصلوں کا اختیار بھی چھین لیا جائےگا۔ اسی طرح پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو وائس چانسلر کی کارکردگی کا جانچنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ایک سال میں2 مرتبہ وی سی یونیورسٹی کی کارکردگی کا آڈٹ کریں گے اور  وائس چانسلرز اپنی مدت تقرری کے دوران سول سرونٹ تصور کیے جائیں گے اور وائس چانسلر کو دباؤ میں رکھنے کے لئے وی سی کیخلاف پیڈا ایکٹ کا نفاذ ہوسکے گا۔ گورنر پنجاب جو کہ بطور چانسلر پبلک یونیورسٹیز کیلئے الگ الگ پرفارمنس انڈیکیٹرز مقرر کرسکے گا۔ سنڈیکیٹ کے چار منتخب ممبران میں سے کم از کم دو خواتین ہوں گی۔ سرچ کمیٹی کو وائس چانسلر کی تنخواہ مقرر کرنے کا اختیار سپرد کیا جائے گا۔