گڑیا بولتی کیوں نہیں؟ عثمان خادم کمبوہ

تحریر: عثمان خادم کمبوہ

چار سال کی گڑیا کی شلوار میں چچا شکور کو ہاتھ ڈالتا دیکھا, مگر ماں چپ رہی. بس گڑیا کو شکور کے پاس جانے سے روک دیا.
بارہ سال کی گڑیا کو سکول جاتے ہوئے لڑکے چھیڑتے تھے تو اسے برقع پہنا دیا. مگر لڑکے پھر باز نہ آئے. ماں سکول جانے سے ہی نہ روک دے گڑیا نے ماں سے کچھ کہنا چھوڑ دیا. چپ رہی.
نویں جماعت اور دسویں جماعت کے امتحانوں سے پہلے میتھ کے ٹیچر نے گڑیا کو کلاس کےبعد روکنا شروع کر دیا. ٹیچر بورڈ میں داخلہ نہ روک دے گڑیا چپ رہی.
مگر اتنا اس کو پتا لگ گیا تھا کہ اب وہ شادی کے قابل نہیں رہی. ابا کو پتا چل گیا تو وہ تو جان سے ہی مار دے گا, اس لیے گڑیا چپ رہی.
چچا شکور نے اپنے بیٹے کے لیے رشتہ مانگ لیا. ابا نے ہاں کر دی, اماں اور گڑیا چپ رہی.
منگنی ہو گئی, منصور گندے گندے میسج کرتا تھا. گڑیا جواب نہیں دیتی تھی تو اس کی ماں کو کال کر کے منگنی توڑنے کی دھمکی دیتا تھا. گڑیا چپ رہی.
کالج سے واپسی پر چچا شکور گڑیا کو لے کر جانے کی ضد, کرتا تھا اور معنی خیز نظروں سے اسے دیکھ کر, پوچھتا تھا, یاد ہے تجھے بچپن میں تجھے کیسے پیار کیا کرتا تھا میں. گڑیا چپ رہی.
کس سے کہتی, کیا کہتی.
شادی ہو گئی. منصور نے بہت مارا تو تو سیکنڈ ہینڈ نکلی حرافہ, مجھ سے فون پر بات نہیں کرتی تھی, نیک پروین بنتی تھی. کدھر منہ کالا کیا. گڑیا چپ رہی.
اگلے دن منصور نے کہا میں تجھے واپس باپ کے گھر, چھوڑ, کر آتا ہوں. شکور نے کہا پہلے مجھے بدلہ لینے دے. کمرہ بند. گڑیا چپ رہی.
شام کی چائے میں گڑیا نے باپ بیٹے کو زہر دے دیا اور باپ کے گھر آ گئی.
خبر لگی زبردستی کی شادی پر دلہن نے سسر اور دلہے کو زہر دے دیا.
فیس بک پر لوگ کہنے لگے کہ اپنے باپ کو زہر دیتی, شوہر اور سسر کو کیوں قتل کیا؟
پولیس پوچھتی رہی کہ تم نے ایسا کیوں کیا. گڑیا چپ رہی. آج ہمارے معاشرے میں یوں ہی چل رہا ہے. کئ گڑیا خاموش ہیں عزت کی خاطر اور کئ آوارہ گھوم رہیں ہیں گڑیا کی تلاش میں.