انگ ریزی میڈیم اسکولوں سے کیا مل رہا ہے؟ سلیم ہاشمی

(پروفیسر محمد سلیم ہاشمی)
گلی محلوں میں گلی محلہ انگ ریزی میڈیم اسکول ہیں۔
ذرا بہتر علاقوں میں ذرا بہتر انگ ریزی میڈیم اسکول ہیں
پوش علاقوں میں لش پش انگ ریزی میڈیم اسکول ہیں
گلی محلوں میں گلی محلہ اکیڈمیاں ہیں
ذرا بہتر علاقوں میں ذرا بہتر اکیڈمیاں ہیں
پوش علاقوں میں لش پش اکیڈمیاں ہیں
گلی محلہ اسکولوں میں فیس چند سو روپوں سے ایک یا دو ہزار روپوں تک ہیں، اسی طرح اکیڈمیوں کی فیسیں ہیں
ذرا بہتر اسکولوں میں فیسیں پانچ ہزار سے دس ہزار تک ہیں، ذرا بہتر اکیڈمیوں میں بھی فیسوں کا یہی معیار ہے
پوش علاقوں کے اسکولوں کی فیسیں 12 ہزار سے ایک لاکھ تک ہیں، چند اسکولوں میں فیسیں ڈالروں میں بھی لی جاتی ہیں۔ ان علاقوں میں اکیڈمیوں کی فیسیں بھی اسی تناسب سے ہیں۔
گلی محلہ اسکولوں میں پڑھایا نہیں جاتا، صرف رٹا لگایا جاتا ہے۔
اکیڈمیوں میں وہی رٹا ذرا پکا کر دیا جاتا ہے۔
ذرا بہتر اسکولوں میں بھی پڑھایا نہیں جاتا بس رٹا لگایا جاتا ہے۔
ذرا بہتر اکیڈمیوں میں رٹے کو اور پکا کر دیا جاتا ہے
لش پش اسکولوں میں بھی بچوں کو پڑھانے کی زحمت نہیں کی جاتی رٹا ہی لگوایا جاتا ہے
لش پش اکیڈمیوں میں بھی رٹے کو پکا کیا جاتا ہے۔
کتابوں میں کیا ہے، اس کو سمجھانا بھی ہے، اس کا کوئی مقصد بھی ہے، اس سے کسی کو کیا غرض۔
رائے منظور ناصر صاحب ان کتابوں کو پرکھ رہے تھے جو بچے پڑھتے ہیں نہ ان کے استاد۔ وہ کتابیں صرف بیچی اور خریدی جاتی ہیں۔
اگر وہ پڑھی پڑھائی جاتی ہوتیں تو رائے منظور صاحب اتنے ہزاروں اسکول اور اتنے لاکھوں استاد اور پھر اتنے کروڑوں بچے اور ان کے والدین، کوئی تو بولتا۔
میں بھی تو جنگل میں صدائیں دے رہا ہوں، جنگل میں۔
پروفیسر محمد سلیم ہاشمی