سواری اپنے سامان اورعزت کی خود حفاظت کرے۔کاشف اسماعیل

تحریر: کاشف اسماعیل

ہم اس روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں میں بدترین، پست ترین ہیں، اب مجھے اس بات کا یقین ہو چلا ہے.
ایک ماں جو یورپ میں انسانوں میں رہتی تھی وہاں سے شوہرسے ضد کر کے پاکستان آ جاتی ہے کہ اپنی بچیوں کی پرورش اسلامی ملک میں کروں گی.
یہاں رات کو بچیوں کو لے کے گھر سے نکلتی ہے، راستے میں پیٹرول ختم ہونے پہ رکتی ہے، مدد چاہتی ہے، دو درندے وہاں آتے ہیں شیشہ توڑتے ہیں اسے گاڑی سے گھسیٹتے ہووے لے جانے کی کوشش کرتے ہیں.
.
اس دوران سڑک سے معمول کے مطابق ٹریفک رواں دواں رہتی ہے بد قسمتی سے اس دوران وہاں سے کسی مرد کا گزر نہیں ہوتا، ہان خواجہ سرا اور دلال گزرتے رہتے ہیں.
ان میں اتنی ہمت کہاں کے کسی لاچار ماں کو اس کے بچوں کے سامنے عزت لوٹنے سے بچا سکیں.
.
آخروہ دونوں شیطان اسے جنگل میں لے جا کے ……. آگے میرے میں سکت نہیں کہ میں وہ منظر بیان کرسکوں.
پولیس پہنچتی ہے وہ ماں حالت غیرمیں ان سے التجا کرتی ہے کہ اسے یہیں گولی مار دی جائے.
.
آہ صرف ایک لمحے کے لئے اس کے کرب کا احساس کرو اگر کرسکتے ہو تو، تم کیسے کرو گے تم تو مرد ہو، چلو ایک پل کیلئے اپنی مردانگی کو ہی تصور میں لے آؤ، تمہارے کپڑے پھاڑ کے تمھیں تمہارے بچوں کے سامنے زیادتی بھی نہیں صرف ناک سے لیکرین ہی نکلوا دیں تو کیسا ہو؟
روح کانپ گئی نا، یہ ابھی ان زخموں کا صرف ایک فیصد ہے جو اس ماں اور بچوں نے دیکھا اورسہا ہے.
.
اے مرد تجھ سے اتنا ہی کہوں گا؛
اتنا تو رعب ہو
کے پاس سے گزرے کوئی عورت
تو وہ بے خوف ہو
.
قانون اندھا تو تھا ہی اب تو انتہائی بھونڈا بھی ہو گیا ہے. کہتا ہے کیا ضرورت تھی اکیلے گھر سے نکلنے کی، ذرا یہ بتانا تمہاری امان اور بہن پہ بھی یہ ایس او پیز لاگو ہوتے ہیں؟
اگر کوئی محرم میسر نہ ہو تو پہلے دو چار آشنا بنانے پھر سفر کرے؟
اور جب مر جائے تو اکیلی دفن ہو یا کسی محرم کے ساتھ؟
کیونکے وہ تو قبرمیں بھی محفوظ نہیں.
.
والدین پچھلے ایک دو روز میں اسکے علاوہ بھی بچے اور بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات بہت تیزی سے پیش آ رہے ہیں. اپنے بچوں کی حفاظت کیجئے.
کسی کا بھی ہرگز ہرگز بھروسہ مت کیجئے، بچوں کے ساتھ ایسا دوستانہ رشتہ رکھیں کہ وہ ہر بات شیرکرسکیں. مجھے آگے حالات بہت خوف ناک نظر آ رہے ہیں.
.
آپ سب کے لئے پیغام ہے؛
اس ظلم کے خلاف لڑو
لڑ نہیں سکتے تو لکھو
لکھ نہیں سکتے تو بولو
اور بول نہیں سکتے تو ساتھ دو
اور اگرساتھ بھی نہیں دے سکتے تو جو ظلم کے خلاف لڑ رہے ہیں انکی مدد کرو
اگرمدد بھی نہیں کرسکتے ہوتوانکے حوصلے پست نہ ہونے دو
کیوں کہ وہ آپ کے حصے کی لڑائی لڑ رہے ہیں.
.
سفر سے گریز کریں کرنا پڑے تو یاد رکھیں،

"سواری اپنے سامان اورعزت کی خود حفاظت کرے"