تعلیمی انقلاب، وقت کاتقاضا: اشتیاق احمد

انقلاب کا مطلب زمین میں راجہ ہل چلانا ہے جو اوپر کی مٹی کی نیچے اور نیچے کی مٹی کو اوپر لاتا ہے۔پاکستان میں تعلیم بازار میں بکنے والی جنس کی طرح بکتی ہے۔ اسے وہی خرید سکتا ہے جو زر و جواہرات کا مالک ہوتا ہے۔حکمران طبقے نے سامراجی امداد کے ساتھ ہزاروں تعلیمی ادارے کھول رکھے ہیں جو ان کی کمائی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں طبقاتی تفریق کو پروان چڑھانے کا بھی سب سے بڑا منبع ہیں جہاں اشرافیہ کے بچے دسیوں ہزار روپے ماہانہ فیس ادا کر کے پڑھتے ہیں۔ دوسری طرف ان خاک نشینوں اور دو وقت کی روٹی کو ترسنے والوں کے بچے ہیں جن کے بیٹھنے کو نہ چھت ہے اور نہ پینے کو پانی۔ایک اسلامی ملک میں ایک طرح کے سکولوں میں شودر مسلمان پڑھتے ہیں اور دوسری قسم کے سکولوں میں برہمن مسلمان۔برہمن مسلمان تو پیسے کے بل بوتے پر اپنے نصاب اور تعلیم کی دوسری مشکلات پر قابو پا لیتے ہیں مگر شودر مسلمانوں کے بچے ابتداء سے گھبرا کر سکول چھوڑ جاتے ہیں اور کسی مکینک کی دوکان کا رخ کرتے ہیں یا ہوٹل میں برتن مانجھ کر اپنی اور اپنے بوڑھے ماں باپ کے پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں۔برہمنوں کے سکولوں میں ایسے حکمران تیار ہوتے ہیں جو ضمیر نام کی چیز سے قطعا عاری ہوتے ہیں اور اپنے وطن کے مفادات کو چند سکوں کے عوض بیچ ڈالتے ہیں۔ یہاں ایسے جرنیل تیار ہوتے ہیں جو دشمن کے آگے ہتھیار ڈالنے کو ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ایسے بیوروکریٹ تیار ہوتے ہیں جو اپنے زیرِ نگیں محکموں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔
جب نظامِ تعلیم طبقاتی تفریق کی بدترین مثال بن چکا ہو اور غریب کے لیے قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں ہوں۔نظامِ تعلیم سامراجی مفادات کا آئینہ دار بن چکا ہو تو پھر تعلیمی انقلاب وقت کا تقاضا بن جاتا ہے۔وہ انقلاب جس میں امیر اور غریب کا بچہ ایک ساتھ بیٹھ کر تعلیم حاصل کرے۔اشرافیہ کے تمام سکولوں کو سرکاری تحویل میں لے کر قومی نظامِ تعلیم کے دھارے میں شامل کر دیا جائے۔کسی کو نجی تعلیمی ادارہ کھولنے کی اجازت مت دی جائے۔ اس لیے کہ قوم کو تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اگر ریاست یہ ذمہ داری پوری کرے تو پرائیویٹ مافیا نہیں پنپتا جو بدقسمتی سے ہمارے ملک میں لوگوں کا خون چوس رہا ہے۔تمام تعلیمی اداروں کو یکساں فنڈ کی تقسیم ہو اور سب میں یکساں نصابِ تعلیم رائج کیا جائے اور ہر سطح کا نصاب ملک کی قومی زبان اردو میں تیار کر کے یکساں طریقے سے رائج کیا جائےتو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں پہلی جماعت میں داخل ہونے والے بچوں کی کل تعداد کا 80 فیصد ایم اے ایم ایس سی کر جائے گا۔ہر ضلع میں ایک تالیف و تصنیف و ترجمہ کا ایک مرکز ہو جہاں دیگر زبانوں سے علوم و فنون کو ہماری قومی زبان میں منتقل کیا جائے اور ہر سال تمام اضلاع کے ان تحقیقی کاموں کی ایک مرکزی جگہ پر نمائش ہو۔ امتیازی کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو صرف دس سالوں میں ہماری لائبریریاں ہماری قوموں زبان میں لکھی ہوئی کتابوں سے بھر جائیں گی۔یہی ملک میں تعلیمی انقلاب ہو گا۔ اس دھرتی کے سینے پر کوئی ملک ایسا نہیں ہے جس نے یہ کام کیے بغیر ترقی کی ہو۔کوئی مائی کا لال ایک مثال بھی نہیں پیش کر سکتا۔
انگریزوں نے کیا ہمارے علمی اثاثے کو انگریزی میں منتقل کر کے ترقی نہیں کی؟زندہ قومیں اپنی دنیا آپ پیدا کرتی ہیں نہ کہ بھیک مانگ کر اور نقالی کے ذریعے ترقی کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اگر حکومتِ پاکستان آج پہلی جماعت سے لے کر ایم ایس سی تک قومی زبان میں امتحان دینے کی اجازت دے دے تو نصاب بھی خود تیار ہو جائے گا اور گھر گھر ڈاکٹر اور انجینئر پیدا ہو نے لگیں گے۔قومیں تحقیق و تخلیق کے مراحل سے گذر کر ترقی کرتی ہیں نہ کہ دوسروں کی تحقیق پر ہی اکتفا کر کے۔کیا خود انحصاری اپنی زبان میں اپنے لوگوں کے ذریعے کتابیں لکھنے اور سوفٹ وئیر بنانے سے آتی ہے یا دوسروں کی لکھی ہوئی کتابوں پر اکتفا کر کے؟ کیا اس طرح ہم اپنے آپ کو نااہل ثابت نہیں کرتے؟ تو نااہل کیسے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔یہی ایک نکتہ ہے جو تعلیمی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ورنہ ذہانت اسی طرح گلیوں اور بازاروں میں رلتی رہے گی جس طرح آج رل رہی ہے۔
اشتیاق احمد
Ishtiaq Ahmad