فپواسا پنجاب نے یونیورسٹیوں میں کنٹرولر و رجسٹرار کی تعیناتی کے مجوزہ قوانین مسترد کر دئیے

لاہور (23دسمبر،بدھ):فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن پنجاب نے 2002 سے قائم ہونے والی سرکاری یونیورسٹیوں میں رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات کی تعیناتی سے متعلق محکمہ ہائر ایجوکیشن کے تجویز کردہ قوانین کو مسترد کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں فپواسا پنجاب کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ممتاز انور چوہدری نے کہا ہے کہ محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کسی نہ کسی بہانے یونیورسٹیوں کی خودمختاری پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے انہوں نے کہاکہ جس یونیورسٹی میں جس رجسٹرار یا کنٹرولر امتحانات نے کام کرنا ہے وہ اپنے قانون کے مطابق مشاورت کے ذریعے رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات کی اہلیت  اور شرائط و ضوابط سے متعلق بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں تاہم محکمہ ہائر ایجوکیشن اپنے طور پر ہی بغیر قوانین کی پیروی کئے غلط فیصلے نافذ کرنا چاہتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر محکمہ ہائر ایجوکیشن کو یونیورسٹیوں میں بے جا مداخلت سے نہ روکا گیا تو سرکاری یونیورسٹیاں جن کی بین الاقوامی رینکنگ میں بہتری آ رہی ہے ان کی نہ صرف ترقی رکنے کا خدشہ ہے بلکہ وہ تنزلی کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور مختلف فورمز پر یونیورسٹیوں کی خود مختاری پر سمجھوتہ نہ کرنے اور یونیورسٹیوں کو بیوروکریسی کے شکنجے سے آزاد کرانے کی یقین دہانی کرا چکے ہیں تاہم محکمہ ہائر ایجوکیشن کے ایسے اقدامات ان کے ویژن کو گہنا رہے ہیں اور پنجاب میں شعبہ ہائرایجوکیشن کی ترقی میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور وزیر ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سے مطالبہ کیا کہ محکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے تجویز کی گئی ایسی کوئی بھی سمری منظور نہ کی جائے اور محکمہ ہائر ایجوکیشن کو یونیورسٹیوں میں بے جا مداخلت سے روکا جائے۔