پنجاب یونیورسٹی پاکستان سٹڈی سنٹر کے زیر اہتمام پاک روس تعلقات پر ویبینار

لاہور (16اکتوبر،ہفتہ):پنجاب یونیورسٹی پاکستان سٹڈی سنٹر کے زیر اہتمام لومونسونف ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی روس کے اشتراک سے ’پاکستان اور روس کے تعلقات‘ پر بین الاقوامی ویبینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومنٹیز اور ڈائریکٹرسنٹرپروفیسر ڈاکٹر عامرہ رضا، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ آف ساؤتھ ایشین ہسٹری، انسٹٹیوٹ آف ایشین اینڈ افریقن سٹڈیز پروفیسر الیگزینڈر سفرونوا، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر امجد عباس مگسی، اینا بوچکوسکایا، فیکلٹی ممبران اور ایم فل /پی ایچ ڈی سکالرز نے شرکت کی۔ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عامرہ رضا نے کہاکہ ایسی تعلیمی سرگرمیاں دونوں اداروں کے فیکلٹی ممبران اور طلباؤ طالبات کو قریب لانے میں کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے آرٹس، ادب، میوزک اور کھیلوں کو فروغ دینے کیلئے مل کر کام کرنے پر زور دیا۔ ڈاکٹر عامرہ نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی زبان اورفنون کے شعبوں میں تعلیمی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک اور یونیورسٹیوں کے درمیان روابط کو بڑھانے پربھی زورد یا۔پروفیسر الیگزینڈرا نے پاکستان اور روس کے تعلقات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ جیوپولیٹیکل صورتحال نے تعاون اور تحقیق کے نئے امکانات پیدا کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات کی ممکنہ بنیاد کیلئے پنجاب یونیورسٹی اورلومونسوف ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی کے درمیان مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط اور عملدرآمد سے نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر امجد عباس مگسی نے دونوں ممالک کے تعلقات کے تاریخی پس منظر اور جنوبی ایشیا کی حالیہ جیوپولیٹیکل صورتحال پر سیر حاصل بات چیت کی۔ انہوں نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پرروشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ تعلقات میں بہتری کیلئے ماضی کو پیچھے چھوڑکر دونوں ممالک کو باہمی فوائد پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار دوستی کی بنیادوں کو مضبوط اور وسیع کرنے کی بہت گنجائش ہے۔ڈاکٹر امجد مگسی نے کہا کہ دونوں ممالک توانائی، آرٹ اورکلچرل ایکسچینج کے ذریعے رابطے بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے افغانستان کے حالات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ افغانستان کے بارے میں روس کی کوششوں کو خاص طور پر سراہا گیااور خطے میں امن اور خوشحالی کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے کردار کی تعریف کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، بھارت، افغانستان اور ایران کو شامل کرنے سے یہ علاقائی فورم خطے کے لیے مثبت نتائج لا سکتا ہے۔ اینا بوچکوسکایا نے پاکستان اور روس کے درمیان،تجارت، انرجی انجینئرنگ، عسکری اور تکنیکی تعاون کے معاملات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ثقافتی اور سائنسی تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت پرزور دیا۔ انہوں نے کہا کہ لومونوسوف ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی کے مابین نئے ایم او یو پر دستخط کرنا پاک روس تعاون میں بہتری کا باعث بنے گا۔